پنجگور،مقتول صابر سلیمان کے لواحقین اور سول سوسائٹی کی ملوث اہلکاروں کیخلاف احتجاجی ریلی
پنجگور( نامہ نگار ) قتل ہونے والے صابرسلیمان کے لواحقین اور سول سوسائیٹی پنجگور تسپ کی جانب سے ایک پرامن ریلی نکالا گیا ریلی وشبود اسٹاف سے برآمد ہوکر حبیب بنک چوک پر آکرایک بڑے احتجاجی جلسہ کی شکل اختیار کرگیا جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد شریک رہی احتجاجی شرکاء نے صابر سلیمان کے واقعہ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور لواحقین کے خلاف بوگھس مقدمہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ریلی کے شرکاء سے نیشنل پارٹی کے رہنما پھلین بلوچ بی این پی مینگل کے رہنما میر نظام ملازئی عطاء اللہ نتوزئی میر اورنگ زیب ملازئی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریلی طاقت ور قوتوں کو یاددہانی کرانے کے لیے مجبورا نکلا گیا ہے پولیس لیویز اور دیگر ادارے عوام کا سوچین ہمارایہاں جمع ہوکر بھیٹنے کا ایک مقصد ہے اور مقصد پولیس کے ہاتھوں ایک پرامن شہری کے قتل پر انصاف مانگنا ہے جو پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹوں کے بحث ممکن نظرنہیں آتا مقررین نے کہا کہ تم قتل بھی کرو اورہم ماتم بھی نہ کریں یہ کہاں کا قانون اور ضابطہ ہے کسی بھی ملک اور شہر میں ایسا کوئی قانون نہیں کہ متاثرہ خاندان کے رونے پر پابندی لگی ہو ہمارے ساتھ پولیس نے اسی طرح کا غیر انسانی برتاو روا کررکھا ہے بہت دکھ افسوس کا مقام ہے کہ ڈی سی اور ڈی پی او متاثرہ خاندان کے ساتھ ناانصافی کا اقرار کرنے کے باوجود انصاف نہیں دے سکے انہوں نے کہا کہ پولیس کا یہ موقف کہ میں نے ایک جرائم پیشہ شخص کو مارا ہے باعث شرم ہے صابر سلیمان کی شرافت اور انکساری کی پورا شہر گواہی دیتا ہے صابر سلیمان نہ صرف ایک پرامن اور بے ضرر شہری تھے بلکہ ان کی سماجی خدمات سے غریب ومساکین استفادہ کررہے تھے پولیس نے ایک فرد کو نہیں بلکہ ایک قبیلہ اور ایک کثیر آبادی کے باسیوں کے آرمانوں کا خون کیا ہے مقررین نے کہا کہ عوام اور پولیس کو تصادم سے بچانے کے لیے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اللہ کا انتقام بہت سخت ہے زمہ داران اس دن سے ڈریں جب اللہ کی پکڑ میں ان پر ہوگی انہوں نے کہا کہ میر اسداللہ بلوچ خود کو فرزند پنجگور سمجھتے ہیں انھیں بات کا سختی سے نوٹس لینا چائیے تھا مگر افسوس کہ وہ اس تمام معاملے میں خاموش رہے مقررین نے کہا کہ منفی ریوں کی وجہ سے عوام فورسز سے متنفر ہورہے ہیں پولیس کا کام عوام کے جان ومال کا تحفظ ہے ناکہ لوگوں کو ناحق قتل کرکے ان کے بچوں کو یتیم بنانا صابر سلیمان کو شہید کرنے کے بعد پولیس نے ان کے معصوم بیٹے اور بھائی پر مقدمہ کرکے چنگیزی مظالم کو بھی پھیچے چھوڑدیا ہے مقررین نے کہا کہ ہم حکمرانوں سے فقط انصاف کے طلب گار ہیں اور انصاف کی خاطر ہر درکٹکٹائیں گے اور یہ کہاں کا قاعدہ قانون ہے کہ باپ کو شہید کرکے بیٹے کو مقدمات الجھایا جائے انہوں نے کہا کہ ہم انصاف کے لیے کہاں جائیں ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او انصاف کے آگے رکاوٹ نہ بنیں جانبدارانہ رویہ عوام کو تصادم کی طرف لیکر جائے گا انہوں نے کہا کہ ایم این اے احسان اللہ ریکی صوبائی وزیر میر اسداللہ اسپیکر میر قدوس بزنجو متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی میں کردار ادا کریں شہید صابر سلیمان ایک مجرم اور مفرور ملزم نہیں تھے ان کی ایک سماجی حیثیت تھی ان کی جدائی سے علاقے کے غریبوں کو کافی دھچکہ لگا ہے ایک پرامن شہری کو عادی مجرموں کی طرح قتل کرکے پھر اسے اسپتال تک لے جانے کی اجازت نہ دینا انسانیت کی توہین ہے انہوں نے کہا کہ صابر سلیمان کا قصورکیا تھا اسے لیے مارا گیا کہ وہ عام لوگوں کے کمدرد اور خدمت گار تھےانہوں نے کہا کہ ڈی پی او ایک نااہل شخص ہیں اوران کی موجودگی میں انصاف ممکن نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ہم صرف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ صرف زمہ داروں کا تعین کرکے انھیں سزادی جائے لیکن اس کے باوجود پولیس سربراہ یہ ماننے پر راضی نہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے قانون کا راستہ اپنایا ہوا ہے پولیس کی بے اختیار اور جانبدار کمیٹی پر اندھا یقین کرکے اس کے سامنے پیش ہوئے لیکن کمیٹی نے ہمیں مایوس کیا اور اپنے پیٹی بند بھائیوں کو بچانے کی خاطربیانات ریکارڈ کرانے کے عمل کو بلاوجہ طول دے رہے ہیں اور دنیا میں کئیں بھی ایسا نظام رائج نییں ہے کہ لوگوں کو مارکر پھر ان کے لواحقین پر کیس کیا جائے انہوں نے کہا کہ قاتلوں کی گرفتاری تک چھین سے نہیں بھٹیں گے انہوں نے کہا کہ ایف سی اہلکاروں کے ہاتھوں جب حیات بلوچ شہید ہوئے تو ایف سی نے اہلکار کو گرفتار کرایاوہ پولیس کی طرح اپنا بیانیہ بدل سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور قاتل کو فوری گرفتار کرایا مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بلوچیت کے دعویدارمظلوم کی داد رسی کرنے کی بجائے الٹا متاثرہ خاندان کو زہنی ازیت کا نشانہ بنارہے ہیں مقررین نے کہا کہ پنجگوران دنوں جرائم پیشہ افراد اور ڈاکووں کے رحم وکرم پر ہے عوام پولیس کی ظلم وانصافیوں پر الم بلند کریں تاکہ کل کسی اور گھر کا چراغ پولیس کی اندھی گولی کا شکار نہ بنے انہوں نے کہا کہ پولیس نے ریاست میں اپنا ایک الگ ریاست بنادیا ہے انہوں نے کہا کہ صابر سلیمان کے واقعے کے بعد پولیس نے انصاف کا گلاگھونٹ کر ایک معصوم بچے کو بھی کراس ایف آئی آر میں نامزد کیا تاکہ ان کے لیے بلیک میلنگ کی راہ ہموار ہوسکے اور متاثرہ خاندان خود پر بیتنے والی مظالم سے دستبردار ہوجائے انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے ادارے پولیس گردیوں کا نوٹس لیں تاکہ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوسکیں


