بلوچستان کو جہنم بنادیا گیا ہے، بانک کریمہ کے قتل کیخلاف 27 دسمبرکوخضدارمیں ریلی نکالی جائیگی، بلوچ یکجہتی کمیٹی
خضدار، بلوچ یکجہتی کمیٹی خضدار کی رہنماوں ندا بلوچ ،زکیہ بلوچ ،تبسم بلوچ، خالدہ بلوچ اور ایڈوکیٹ فوزیہ بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کوپچھلے کئی عشروں سے اپنے ہی باسیوں کے لئے جہنم بنا دیا گیا ہے ۔ آے روز بلوچستان کے بچے کسی معلوم اَن دیکھے اژدھے کے ہاتھوں زندہ ھڑپ کیے جارہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں خضدار پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس بے سر و پا طاقت کو روکنے والا کوٸی بھی نہیں اور نہ افتادگان خاک کی آواز سننے اور بننے کو کوٸی تیار ہے۔
بلوچ وطن کے باسیوں کو کبھی اغوا کرکے مسخ شدہ لاش پھینک دی جاتی ہے تو کبھی گھروں پر شیلنگ کرکے گھروں کو مسمار اور زندہ بلوچوں کو درگور کی جاتی ہے۔ بلوچ وطن کے تمام خوبصورت اور قابل ذہنوں کو آسانی کے ساتھ ایک ایک کر کے موت کے گھاٹ اتاری جا رہی ہے۔ اس ساری ظلم و جبر کا مقصد بلوچ نسل کشی اور بلوچ گل زمین پر استحصال کو جاری رکھنے کے لئے خوف کے ماحول بنا رکھنا ہے۔بلوچ نہ اپنے دیس میں محفوظ ہیں نہ ہی وِدیش میں۔ اگر اپنے دیس میں ہوں تو پروفیسر رزاق بلوچ، لمہ ملک ناز اور کلثوم کی شکل میں بے دردی کے ساتھ قتل کیے جاتے ہیں اور اگر وہ باہر کہیں بچ نکلنے میں کامیاب بھی ہوں تو وہاں بھی طاقتور اور ظالم قوتیں انہیں عارف بارکزٸی، ساجد حسین بلوچ اور بانک کریمہ بلوچ کی طرح انتہاٸی مکاری اور سفاکی کے ساتھ قتل کرکے ان کی شہادت کو حادثہ یا پھر خودکشی ثابت کرنے کی بے تکی کوشش کر ڈالتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بانک کریمہ بلوچ بدنصیب بلوچ راج کی آن بیٹیوں میں سے ایک ہیں ۔ جو بلوچ پر ہونے والی ظلم و جبر کو محسوس کرتی تھیں اور بلوچ نسل کشی کے خلاف آواز بلند کرنے کی سکت رکھتی تھیں ۔ بانک کریمہ بلوچ ایک پرامن بلوچ طلباء تنظیم کی رہنما رہ چکی تھی۔ آپ نہ صرف ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرتی بلکہ بلوچ راج کو تعلیم یافتہ بنانے کے لئے آپکی نمایاں خدمات تھیں ۔ آپ وہ پہلے بلوچ خاتون بھی ہیں جنھوں نے باقاعدہ کسی سیاسی پلیٹ فارم سے بلوچ حقوق کی آواز بنیں۔ آپ کا جرم مظلوم بلوچ قوم کی آواز بننا تھا۔ اسی لئے معلوم نامعلوم قوتوں کی جانب سے جب آپ بلوچ وطن میں موجود تھیں تو آپکو دھمکیاں ملتی رہی اور آپ کے گھر پر حملے ہوتے رہے ۔ جب آپ بلوچ وطن سے دور بلوچ آواز بنے تو بلوچ دشمن قوتوں نے آپکو وہاں بھی اپنے عتاب کا شکار بنا دیا۔ گذشتہ کچھ دن پہلے اس بلوچ آواز کو کینیڈا کے شہر ٹورنٹو سے اغواہ کیا گیا اور ایک دن بعد مظلوم بلوچ قوم کی آواز کی لاش پھینک دی گئی ۔ اس حوالے سے ہم خضدار کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ آٸیں اس جبر و دہشت کے خلاف ہماری آواز بنیں کیونکہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ساجد حسین، لمہ ملک ناز اور بانک کریمہ کی طرح اگلی باری ہم سب کی ہے۔ اس جبر بربریت کے خلاف بولیں اپنے آنے والے کل کےلیے آواز اٹھاٸیں تاکہ پھر کوٸی اور بلوچ اس طرح کے بیہمانہ قتل و جبر کا شکار نہ ہو۔
انہی انسان دشمن و بلوچ دشمن قوتوں کے خلاف اور بلوچ نسل کشی پر مبنی جبر و قتال کے خلاف 27 دسمبر بروز اتوار صبح 11 بجے خضدار کے مظلوم بلوچ اپنا احتجاج ریکارڈ کراہینگے ۔ ہم آپ کی توسط سے خضدار کے تمام بلوچ بیٹوں اور بیٹیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری آواز کے ساتھ ہم آواز ہو کر اس ظلم و بربریت کو للکاریں ۔


