افغان مذاکرات کا اگلا دور 5 جنوری کو دوحہ میں شروع ہوگا

کابل: افغان صدر اشرف غنی کے افغان امن مذاکرات کو وطن منتقل کیے جانے کے حالیہ مطالبے کے باوجود طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ماہ سے قطر میں ہوگا۔

امن مذاکرات 12 ستمبر کو دوحہ کے ایک پرتعیش ہوٹل میں شروع ہوئے تھے تاہم اس وقت یہ مذاکرات 5 جنوری تک تعطل کا شکار ہیں۔

ملک میں امن عمل کی قیادت کرنے والے افغانستان کے قومی کونسل برائے قومی مفاہمت کے ترجمان فریدون خوازون کا کہنا تھا کہ ‘مذاکرات کا دوسرا دور 5 جنوری کو دوحہ میں شروع ہوگا’۔

انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘کونسل کی قائدانہ کمیٹی نے دوحہ میں بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سے قبل بہت سارے ممالک نے رضاکارانہ طور پر مذاکرات کی میزبانی کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے انہوں نے اپنی پیش کش واپس لے لی’۔

پاکستان نے جیسے جیسے امن عمل میں ‘حوصلہ افزا پیش رفت ہورہی ہے’ وہیں افغانستان میں پائیدار امن کے لیے اپنی پختہ عزم کا اعادہ کیا اور دونوں فریقین سے ‘الزام تراشی سے بچنے اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنے’ پر زور دیا۔

اسی دوران ایک بیان میں افغانستان کے ایوان صدر نے ٹویٹ کیا کہ قومی مفاہمت کی کونسل کے سربراہ اشرف غنی اور عبداللہ عبد اللہ نے اتوار کے روز ایک اجلاس کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں نے ‘مذاکرات کے اگلے دور کے مقام پر تبادلہ خیال کیا’ جس کے بعد اشرف غنی نے طالبان سے مذاکرات کے دوسرے مرحلے پر حکومت کی حمایت کا اعلان کیا۔

دسمبر کے آغاز میں دونوں فریقین کے مذاکرات کاروں نے کئی ماہ کی مایوس کن ملاقاتوں کے بعد وقفہ لینے کا فیصلہ کیا تھا جو مذہبی تشریحات کے بنیادی ڈھانچے پر تنازعات تلے دبے ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں