لاپتہ اسداچکزئی پر الزام ہے تو عدالتوں میں پیش کیا جائے،مابت کاکا

لسبیلہ: عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسد اللہ خان اچکزئی کی وعدم بازیابی اور وفاقی ادارہ نادرا حب کے افسران کی ناروا سلوک زیادتیوں ک خلاف عوامی نیشنل پارٹی ضلع لسبیلہ کے زیر اہتمام جمعہ کے روز لسبیلہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی ریلی برآمد ہوئی ریلی کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر اسد اللہ خان اچکزئی سمیت بلوچ لاپتہ افرادکی بازیابی کے نعر ے تحریر تھے ریلی کے شرکا ء نے بینزر اور پارٹی جھنڈے ہاتھوں میں تھام کر کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کا گشت کیا اور اسد اللہ خان اچکزئی اور بلوچ لاپتہ افراد کے فور ی بازیابی کے نعرے لگائے ریلی مین RCDشاہراہ سے ہوتا ہوا بلدیہ روڈ پر اختتام پذیر ہوئی اس موقع پر احتجاجی مظاہرین سے عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری مابت کاکا،سینئر نائب صدر اصغر علی ترین،لسبیلہ کے ضلعی صدر لالہ منان افغان،مرکزی کمیٹی رکن کے رانا گل آفریدی،لسبیلہ کے جنرل سیکرٹری آغا عبدالباقی،سینئر نائب صد رحاجی برات خان،عبدالرزق نورزئی،سیکرٹری اطلاعات عبید خان مشوانی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تین ماہ قبل ہی عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسد اللہ خان اچکزئی کو کوئٹہ چمن شاہراہ سے دن دیہاڑے اغواء کیا گیا جس کی بازیابی کیلئے پارٹی کے ذمہ داروں نے ملکی ریاستی داروں،وزیر اعلیٰ،گورنر،آئی جی پولیس دروازے کھٹکٹھائے اپنی فریاد ان تک لے گئے کہ اسد اللہ خان اچکزئی کو بازیاب کرایا جائے کیونکہ وہ بیماری میں مبتلا ہے اور ایک گرد ے کے سہارے پر اپنی زندگی گزار رہاہے جیسے چند ماہ قبل ہی انکے بھائی اپنا گردہ ٹرانسپلانٹ کردیا تھا جس کی طبیعت ناساز ہے اور اغواء کے شبہ میں ان اغواء کاروں سے بھی انسانی ہمدری کے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسد اللہ خان اچکزئی کو رہا کریں انھوں نے کہاکہ تین ما ہ گزرنے کے باوجود اب بھی وہ لاپتہ ہیں انکا کوئی سراغ نہیں لگ رہاہے اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں فوری طور پر ملکی عدالتوں میں پیش کیا جائے انھوں نے کہاکہ بلوچستان میں ہزاروں بلوچ اور پشتون لاپتہ ہیں انہیں محض لیئے لاپتہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی دھرتی کے ساحل وسائل حقوق کیلئے بات کرتے ہیں ایک جانب پشتون وبلوچوں کے حقوق غضب کئے جارہے ہیں تو دوسری جانب انہیں لاپتہ کیا جارہا ہے جو کہ کسی ظلم سے کم نہیں ہے ایسی صورت میں بلوچ اور پشتون قوم پہاڑوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں انھوں نے کہاکہ بلوچستان میں ہزاروں بلوچ و پشتوں قوم کے فرزندوں کو لاپتہ کیا گیا ہے جن کے لخت جگر گزشتہ کئی سالوں سے لاپتہ ہیں اور انکا کوئی سراغ نہیں لگ رہا ہے جس صدمے سے انکی والدیں،ماؤیں بہنیں گزر رہی ہیں اس کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں منظر پر عام نہیں لایا جارہا ہے پشتوں اور بلوچ قوم محب وطن ہیں انھوں نے ملک کیلئے اپنی جانوں کو قربان کردیا ہے مقررین نے مزید کہاکہ عوامی نیشنل پارٹی پُر امن پسند جماعت ہے اور ملک میں امن وامان کے خواہاں ہیں جمہوریت پر یقین رکھیتی ہے لیکن بدقسمتی سے ملک جمہوریت کو روندہ جارہا ہے آئین وقانون کی خلاف ورزیاں معمول بن گئیں ہیں اے این پی آزاد میڈیا خودمختیار عدلیہ او ر حقیقی جمہوریت کے خواہ ہیں اور اے این پی کو ساحل وسائل کی بات کرنے اور پشتونوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کی سزا دی جارہی ہے جس کی واضح مثال ایم این اے وزیر کی جسے ہتھکڑیاں ہاتھوں میں ڈال کر گرفتار کیا گیا ہیہیں انھوں نے کہاکہ اگر گوادر،ریکوڈک اور سوئی سے نکلنے والی گیس کے ذخائر پر بلوچستان کے عوام کو خود مختیا ر ی دی جائے تو پورے کے قرضے ان ہی سے اتارا جاسکتا ہے لیکن بلوچستان کے ساحل وسائل کو بیدردی سے لو ٹا جارہاہے انھوں نے کہاکہ وفاقی ادارہ نادرا میں پشتون قوم کے ساتھ نارواسلوک کا سلسلہ تسلسل سے جاری ہے جبکہ حب میں قائم نادرا دفتر کے افسران کا پشتون قوم اور مقامی افراد کے ساتھ زیادتیاں عروج پر پہنچ گئیں ہیں انہیں مختلف طریقو ں سے تنگ کیا جارہا ہے انہیں شناختی کار ڈ کے حصول میں پریشانی ومشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے نادرا کی جانب سے فراہم کی جانے والی فارم پر تمام کوائف مکمل کرانے کے باوجود 1970سے1975یہاں پر رہائش پذیر پشتون قوم کو قومی شناختی کارڈ کا اجراء نہیں کیا جارہا جو کسی ظلم سے کم نہیں ہے انھوں نے اگر نادرا افسران نے اپنے رویئے میں تبدیلی نہیں لائی تو یکم فروری سے حب شہر میں نادرا افسرا ن کی زیادتیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ قائم کیا جائیگا اور جب تک پشتون قوم کو قومی شناختی کارڈکا اجراء نہیں ہوتا اس وقت تک احتجاجی کیمپ قائم رہے گی انھوں نے کہاکہ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسد اللہ خان اچکزئی کواگر 9جنوری 2021؁ء تک بازیاب نہیں کرایا گیا تو 9جنوری کو ہونے والی عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں سخت فیصلے کئے جائیں گئے جس میں صوبوں کے تمام تحصیلوں اور ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائیگی مظاہرین سے مسلم لیگ(ن) لسبیلہ کے رہنماء جاوید خان لاسی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسد اللہ خان اچکزئی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں اور ملک میں بلوچ،سندھی،پشتون،پنجابی،سرائیکی سپوتوں کو جینے دیاجائے ان قوموں کو منتشر کرنے اور لاپتہ کرنے سے جمہوریت پر اثر پڑے گا او ر لوگ سڑکوں پر نکلیں گے اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی لسبیلہ کے رہنماء شاہ محمد علیزئی،خلیل احمد،محمد حنیف خان،مصطفی خان سمیت دیگر پارٹی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں