علی بابا کے بانی جیک ما کی حیران کن گم شدگی

علی بابا کے بانی جیک ما کی حیران کن گم شدگی ایک معمہ بن چکی ہے۔ جیک ما کو چین کی انتہائی اہم کاروباری شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ پچھلے دو ماہ سے عوامی منظر سے اوجھل ہیں۔
چین کے بین الاقوامی شہرت یافتہ کاروباری ادارے علی بابا کے بانی جیک ما کے دو ماہ سے عوامی سطح پر دکھائی نہ دینے سے تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ بظاہر اس وقت ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ اس گمشدگی نے سوشل میڈیا پر ایک طرح سے بے چینی پھیلائی ہوئی ہے۔ ایسی قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی ہیں کہ ان کا کاروبار کہیں چینی ریگولیٹری کریک ڈاؤن کی زد میں تو نہیں آیا ہوا۔چینی کمپنی علی بابا کا ایغور پہچان کا متنازعہ سوفٹ وئیر
جیک ما عالمی سطح پر ایک امیر کبیر چینی شخص کا نام ہے۔ انہوں نے رواں برس اکتوبر میں شنگھائی میں منعقدہ ایک تجارتی فورم پر ملکی ریگولیٹر نظام کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کڑی تنقید کی تھی۔ چینی امور کے ماہرین نے اس تنقید کو حکومتی عمل داری سے براہ راست ٹکراؤ سے تعبیر کیا تھا۔
اسی تنقید کے بعد بیجنگ حکومت نے جیک ما کے ادارے علی بابا کی ذیلی کاروباری کمپنی اے این ٹی کے اربوں ڈالر کے مجوزہ کاروباری معاملات کو معطل کر دیا تھا۔
مشہور جریدے دی فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بیان کیا ہے کہ جیک ما کو ایک ٹٰی وی شو میں بطور جج کے فرائض سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ ٹیلی وژن شو اپنے آخری مراحل میں تھا اور اسے گزشتہ برس نومبر میں نشر کیا جانا تھا۔ اس رپورٹ پر جیک ما کے ادارے نے نیوز ایجنسی روئٹرز سے اس معاملے پر اپنا ردعمل ضرور ظاہر کیا اور واضح کیا کہ علیحدگی کی بنیادی وجہ شو کا شیڈیول ہے۔ ادارے نے جیک ما سے متعلق اس زیادہ بیان نہیں کیا۔
اکتوبر سن 2020 کے بعد جیک ما کے کاروبار کے خلاف قواعد و ضوابط کے منافی کام کرنے اور اعتماد شکنی کی تفتیش بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ علی بابا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اے این ٹی کمپنی کو اپنے کاروباری معاملات سے الگ کر کے ایک نئے ادارے کے طور پر متعارف کرائے۔ بیجنگ میں قائم ٹیکنیکل کاروباری مشاورتی ادارے بی ڈٰی اے چائنا کے سربراہ ڈنکن کلارک کا خیال ہے کہ حکومت جیک ما کے پروفائل کم سطح پر رکھنا چاہتی ہے۔ کارک نے اس صورت حال کو مالی ریگولیڑی ادارے کے ضوابط کے ساتھ نتھی کرنے کا خیال بھی ظاہر کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں