وزیر اعظم کاانتظار

ہزارہ برادری مقتولین کی میّتیں منفی9درجے سردی میں سڑک پردھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔انہیں شکایت ہے کہ بار بار دہشت گرد اسی برادری کوظلم کا نشان بناتے ہیں،حکومت ان کی حفاظت کرنے میں سنجیدہ نہیں۔حالیہ واردات کے بعد ہزارہ برادری نے حکومت سے 8مطالبات کئے تھے۔ سات مطالبے حکومت نے مان لئے ہیں، ایک مطالبہ باقی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ان سے تعزیت کے لئے آئیں اور یقین دلائیں کہ آئندہ انہیں دہشت گردوں کے سامنے بے یارو مددگار نہیں چھوڑا جائے گا۔قاتلوں کی گرفتاری یقینی بنائی جائے گی۔ان کی بنیادی شکایت یہ ہے کہ ان کے قاتل پولیس گرفتار نہیں کرتی، ایک قاتل آج تک گرفتار نہیں کیا گیا۔ احتجاج کرنے والوں کی ہمدردی میں اثناء عشری مسلک کے لوگ کراچی میں 20 اہم مقامات سمیت متعدددیگر شہروں میں دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔شہریوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کاسامناہے۔لوگ اپنے کاروباری مقامات تک پہنچ نہیں سکتے۔راستے جام ہیں گلیوں میں سے گزرنا بھی محال ہے۔ضروری کام کے لئے گھروں سے نکلنے والے اپنے خاندان کے ہمراہ راستے میں پھنس گئے ہیں۔ ایمبولینسز کے لئے راستہ نہیں ملتا۔ مریض اسپتالوں تک جانے سے قاصر ہیں۔ کراچی میں احتجاج کرنیوالوں میں سے ایک گروپ نے طویل انتظار اور موسم کی شدت سے تنگ آکر سے مشتعل ہوکر 5موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی۔ صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے اگر کچھ کیا جاسکتا ہے توسب کی نظریں وزیراعظم کی جانب لگی ہیں۔متأثرہ خاندان اپنے تحفظ کی ضمانت چاہتے ہیں۔یہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری اور شہریوں کا آئینی حق ہے۔ وزیر اعظم نے ہزارہ برادری کے تحفظ کے لئے خصوصی فورس تشکیل دینے کی منظوری دے دی ہے۔ قواعد کے مطابق حکومت نے معاوضہ دینے کا فیصلہ بھی کرلیاہے۔میڈیااطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نے کوئٹہ آنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے لیکن آمد کا دن اور وقت بعض سیکیورٹی خدشات کے باعث خفیہ رکھا جارہا ہے۔کسی وقت اچانک کوئٹہ پہنچ سکتے ہیں۔اس کا اظہار وہ پہلے ہی کرچکے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ افغانستان میں امن و امان کی صورت حال ابھی مخدوش ہے۔صدارتی محل، ایئر پورٹس اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔جس حکومت کے اعلیٰ عہدیدار دھماکوں کی زد میں ہوں وہ ہمسایہ ملک میں دہشت گردوں کی نقل و حمل روکنے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔مقتولین میں بھی 7کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ افغانی ہیں، افغان سفارت کر انہیں تدفین کے لئے افغانستان لے جا نا چاہتا ہے۔ سرگودھا سے گرفتار ہونے والا نیٹ ورک بھی فرقہ وارانہ فسادات کو بڑھکانے کے لئے ایس شخصیات کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہاتھا جو اسی تأثر کو مضبوط کرتا۔ماضی میں معروف شیعہ اور سنی عالم بڑی تعداد میں قتل کئے جا چکے ہیں۔ماضی قریب میں شاہ فیصل کالونی میں بھی ایسی ہی واردات ہو چکی ہے۔ہزارہ برادری کے ساتھ ظلم ہوا ہے، ان کی دلجوئی کی جانی چاہیئے۔اپنے پیاروں کی لاشیں سامنے رکھ کر منفی 9درجے کی خون جما دینے والی سردی میں عورتوں بچوں کی 6دنوں سے کھلے آسمان تلے موجودگی انتہائی مشکل کام ہے۔سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، بند کمروں میں کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ خطے میں متحارب گروپ برسر پیکار ہیں۔امریکہ افغانیوں کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کی خواہش لئے نیٹو کی بھرپور فوجی طاقت کے ساتھ حملہ آور ہوا تھا دو دہائیوں بعد بھی اپنے فوجیوں کی لاشیں اور زخمیوں کو اٹھانے میں مصروف ہے۔ ایران میں ان کے ایٹمی سائنسدان پر قاتلانہ حملہ بڑی طاقتوں کی منصوبہ بندی کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا۔دونوں مغربی ہمسائے بد امنی کا شکار ہیں۔ایسے حالات میں کچھ بھی ہو سکتا ہے اور ہو رہا ہے۔پارلیمنٹ عضو معطل بنی ہوئی ہے۔ملکی مسائل سے اسے کوئی سروکار نہیں۔اپوزیشن نے حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے جن نعروں اور اقدامات کا 16اکتوبر کو اعلان کیا تھا،ایک ایک کرکے ان سے دستبردار ہوتی جا رہی ہے۔پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کی بجائے ضمنی انتخابات میں حصہ لیتی نظر آتی ہے۔سینیٹ الیکشن میں بھی اس کے عزائم واضح ہیں۔پی پی پی کی اصل قائد آصف علی زرداری دیگر 10سیاسی جماعتوں کے قائدین کو انتخابی سیاست کے فوائد سمجھانے میں کامیاب ہو گئے ہیں یا پی ڈی ایم نے اپنا اتحاد بچانے کی دانشمندانہ کوشش کی ہے، اس کا اندازہ مستقبل میں ہوگا۔ عوام اپنے معاشی جھمیلوں میں الجھے ہوئے ہیں، ادھر سے کسی حد تک فراغت ملے تو سیاست کی طرف آنکھ اٹھا دیکھیں۔ایسے حالات میں کوئٹہ کی یخ بستہ ہواؤں میں سب کی نظریں کوئٹہ میں دھرنا دیئے ہزارہ برادری کے اجتماع پر جمی ہیں، یا اس طیارے کی منتظر ہیں جو اسلام آباد سے کوئٹہ پہنچائے گا۔اس لئے کہ تاخیر کی بناء پر احتجاجی افراد کا غم و غصہ دیگر شہروں کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا ہے۔ کراچی میں نوبت موٹر سائیکلوں کے جلانے تک جا پہنچی ہے۔ آخری خبریں آنے تک وزیر داخلہ شیخ رشید احمدکا بیان سامنے آیا کہ پہلے تدفین کر دی جائے،اس کے بعد وزیر اعظم کوئٹہ آئیں گے۔اپوزیشن کی جانب سے اس رویہ پر شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے، حتمی فیصلہ فریقین کو ہی کرنا ہے،عام آدمی کی ہمدردیاں مقتولین اور ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں