آرڈیننس آئینی،بلوچستان ہمارا فخر ہے، فروغ نسیم
اسلام آباد: سینیٹ کے اجلاس میں سینٹر فروغ نسیم نے کہا کہ سینٹرز صاحبا ن نے جو آرڈینس کی بات کی اس پر بات کی جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ جو لائی ہے،وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے،بہت سارے قانون ایسے ہیں جو کہ پاس نہ ہو سکے ہیں،فیٹف پر قانون سازی کو مشترکہ اجلاس میں لے جانا پڑا،سوشل کنٹریکٹ اس سبز کتاب میں موجود ہے اس سے باہر کوئی کام نہیں ہورہاہے،اٹھارویں ترمیم جب بنی تھی اس وقت یہ ترمیم کردی جاتی تو ایسا نہ ہوتا،آرڈیننس جو بھی جاری کیے جاتے ہیں وہ آئین کی روح کے مطابق ہے،آرڈیننس کی مدت ہوتی ہے اور وہ اپنی مدت میں ہی ختم ہو جاتا ہے یا اسے اسمبلی سے پاس کرایا جاتا ہے،قانون کے مطابق سینٹ او ر اسمبلی اجلا س کے دوران کوئی بھی آرڈیننس نہیں آیا،اٹھارویں ترمیم نے خود تو اجازت دی ہے آرٹیکل 89میں کہا گیا ہے کہ آرڈیننس لائے جا سکتے ہیں،بلوچستا ن ہمارا فخر ہے اور اس کو شورش زدہ کرنے کے لیے اس کے پیچھے بھارت کا غلیظ ایجنڈا ہے،بھارت اب تک کیوں نہ کامیاب ہو سکا ہے وہ صرف غیور بلوچستان عوام کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا ہے،آرٹیکل 142میں ہے کہ واضع ہے کہ جب اور کسی بھی وقت قانون سازی کی جا سکتی ہے،جب قانون سازی کی طاقت وفاق کے پاس ہے،37کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں کہا تھا کہ وفاق ایگزیکٹیو اتھارٹی ہے اور لینڈ و بلڈنگز پر ایکسرسائز کر سکتے ہیں،ایک نوٹیفکیشن ایسا بھی ہے کہ پیپلز پارٹی نے 1974میں لینڈ پورٹ قاسم کو دیدی تھی،وہ بھی قانونی تھی،اور ہم اس حق میں ہیں کہ اس وقت جو کیا گیا وہ بھی ٹھیک تھا،میرا یہ جواب یہ ہے کہ جب یہ لینڈ دی گئی اس وقت پہلے والا لیٹر واپس نہ لیا گیا تھا،وہ موجود تھا،میرا عقیدہ ہے کہ پارٹی پالیسی اپنی جگہ مگر راجہ ظفر الحق کبھی جھوٹ نہ بولے گا،وہ آکر پڑھیں اور خود اپوزیشن کو مطعمن کریں،یہ جمہوری بحث ہے ا س پر سیاست نہ کی جائے ان میں ایک چیز بھی قانون سے ماورا بتائیں ہم ساتھ چلیں گے،سیاست اپنی جگہ لیکن قانون کا احترام ناگزیر ہے،ہماری ڈپلومیسی پر بھی بھرپور کارروائی ہو رہی ہے،اس پر یک جہتی ہونی چاہیے،ہم اسی جانب بڑھ رہے ہیں


