مراد سعید نے پارلیمنٹ میں غلط بیانی کرتے ہوئے آئین کی غلط تشریح کی ہے،مرتضیٰ وہاب
کراچی :ترجمان سندھ حکومت اور مشیر قانون و ماحولیات بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر مراد سعید نے پارلیمنٹ میں غلط بیانی کرتے ہوئے آئینِ پاکستان کی غلط تشریح کی ہے۔ ان کیلئے بہتر ہوگا کہ ہائی ویز کو درست کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی بلڈنگ کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مراد سعید اپنا بنیادی کام نہیں کرتے ہیں جبکہ دیگر کاموں میں دخل اندازی کرتے ہیں۔ مراد سعید جب آئین پاکستان کی بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ عمران خان آئین اور قانون کی بات کرتا ہے۔ مراد سعید کو آئین کا آرٹیکل 158 بھی پڑھنا چاہیے جب مراد سعید عدالتی فیصلوں کی بات کرتے ہیں کہ عمران خان "صادق اور امین” ہے۔ 2011 میں سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ وفاق آئین کے آرٹیکل 158 پر لازمی عمل کرے مگر وفاقی وزرا پیپلز پارٹی کے بغض میں سندھ اور بلوچستان کے حقوق پر بات نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ مراد سعید کا کام کمیونیکیشن کا ہے جس کے تناظر میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو فعال بنانا ہے۔ اگر آپ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر بات کریں گے تو بہتر نہیں ہوگا۔ مراد سعید پر کراچی اور سکھر ہائی ویز کو بنانے کی زمہ داری ہے جبکہ ہائی ویز کی صورتحال انتہائی خراب اور خستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اپنی ذمہ داری کو نہیں نبھاتے ہیں۔ مراد سعید نے ایک بار پھر غیر ضروری دخل اندازی کی کوشش کی ہے۔ مراد سعید کہتے ہیں بنڈل آئی لینڈ پر صدر نے درست آرڈیننس جاری کیا اورصدر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ آرڈیننس جاری کر سکتا ہے مگر کسی صوبائی معاملہ میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ جس کی قانونی اتھارٹی وفاق کے پاس ہو صدر مملکت اس پر ہی آرڈیننس جاری کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 47 میں واضح لکھا ہے کہ صدر کس معاملہ پر اختیار رکھتا ہے۔ زمین ایک صوبائی سبجیکٹ ہے۔ آرٹیکل ایک میں زمین کے متعلق واضح لکھا ہے کہ زمین صوبوں کی ملکیت ہیں اور یہ جزائر سندھ اور بلوچستان کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی لیجسلیٹو لسٹ دیکھ لیں اس کے آرٹیکل 172 میں واضح ہے کہ سمندری حدود میں آنے والے جذیرے صوبوں کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ کہتے ہیں ملکیت وفاق کی ہے توبتائیں کس طرح ہے؟ یہ کہتے ہیں پورٹ قاسم میں آتی ہے یہ بھٹوصاحب نے 1974 میں قانون پاس کیا 10ہزار ایکڑ سندھ حکومت نے زمین دی اور غلام مصطفی جتوئی اس وقت وزیراعلی تھے۔ اگر ملکیت وفاق کی ہے تو پھر ہمارے این او سی کی کیاضرورت تھی؟ کیاوفاق اسلام آباد یا پورٹ قاسم میں ترقیاتی کاموں کے لئے سندھ یا وفاق سے اجازت لیتاہے؟ سندھ حکومت کے خط میں این او سی لفظ کہیں پر نہیں لکھا تھا۔آئینی اعتبار سے یہ سندھ کی ملکیت ہیں۔ اگر نہیں ہوتے تو وفاق خط کیوں لکھتا؟ انہوں نے وفاقی حکومت پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہان کے غیر زمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے صوبائی اور وفاقی حکومت کے تعلقات خراب ہوتے ہیں مگر ہم اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو اب سخت فیصلہ کرنا پڑے گا۔ ہائی کورٹ کافیصلہ بھی موجود ہے جبکہ وفاقی حکومت بغض کی وجہ سے آئین پرعمل نہیں کروا رہی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے نوٹس لینے کے بعد خدا خیر کرے۔ یہ باون وزرا سے باسٹھ کردیں گے مگر کل کے فیصلہ سے لگتا ہے کہ وزیرآعظم کام پر نہیں بلکہ بیانات پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حلیم عادل شیخ کوملین اور بلین کا علم نہیں مگر ان سے زمینوں کا پوچھ لیں۔ این آئی سی وی ڈی تردید کر چکا ہے۔ حلیم عادل شیخ کا کام شر پھیلانا ہے۔ کل کی پریس کانفرنس سے لگتا ہے کہ این آئی سی وی ڈی کا بجٹ ملک سے زیادہ ہے؟ جس آڈٹ رپورٹ کا حوالہ حلیم عادل دے رہے تھے اسی آڈٹ آفس کو کل ان کی وفاقی کابینہ نے بلیک میلنگ قرار دے دیا ہے۔این آئی سی وی ڈی نے بلا امتیاز ملک کی خدمت کی ہے۔ یہ لوگ ڈاکٹرز کے شکریہ ادا کرنے کے ان پر الزامات لگائے جارہے ہیں۔ اس موقع پر ترجمان سندھ حکومت کے ہمراہ صوبائی وزیر توانائی امتیاز شیخ بھی پریس کانفرنس میں شریک تھے۔


