سی پیک سے ترقی دینے والوں سے گزارش ہے کہ فل الحال صرف ٹرینیں ہی بحال کردیں،ثناء بلوچ

کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء ورکن صوبائی اسمبلی ثناء اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی کے دعوے محض طفل تسلیاں ہیں، کورونا وائرس کا بہانا بنا کر کوئٹہ سے چلنے والی ٹرنینیں بند کرنا قابل مذمت ہے حکومت اگر سہولت نہیں دے سکتی تو مسافروں کو سستی سواریوں سے محروم بھی نہ کرے، بلوچستان سے ملک بھر میں جانے والی 7میں سے اس وقت صرف ایک ٹرین چلائی جارہی ہے، سی پیک سے ترقی دینے والوں سے گزارش ہے کہ فل الحال صرف ٹرینیں ہی بحال کردیں تو کافی ہے، یہ بات انہوں نے پیر کو ان سے ملاقات کر نے والے ریل مزدور محاذ کوئٹہ ڈویژن کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو پاکستان کی ترقی کاجز قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ دعوے محض لفاظی ہیں بلوچستان ترقی کا وہ انوکھا جز ہے بہتر کرنے کی بجائے حکومت اسے مزیدپسماندہ کررہی ہے انہوں نے کہا کہ صوبے سے ملک بھر کے لئے 2006میں 7 ٹرینیں چلتی تھیں جنہیں ریلوے حکام نے مختلف بہانے بنا کر تین کردیا اور بلوچستان کو ترقی دینے کی دعویدار حکومت میں سال2020میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی آڑ میں یہ تعداد 1کردی گئی ہے ہمیں کورونا وائرس سے زیادہ حکومتی وائرس سے خطرہ ہے جو رفتہ رفتہ ہمیں پسماندگی کا شکار کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ریل سستی اور محفوظ سواری ہے جس میں متوسط اور غریب طبقے کے لوگ، مریض، اور ہر عمر کے لوگ با آسانی سفر کرسکتے ہیں لیکن کورونا وائرس کا بہانا بنا کر بلوچستان سے چلنے والی بولان میل اور نواب اکبر بگٹی ایکسپریس ٹرینیں بھی بند کردی گئی ہیں کیا یہ وائرس صرف بلوچستان سے پھیل رہا ہے جبکہ ملک بھر سے چلنے والی ٹرینیوں کو بتدریج بحال کردیا گیالیکن صوبے کی عوام کو ریل کی سہولت سے محروم کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ حکومتی غفلت اور غیر سنجیدیگی کی وجہ سے لوگ مہنگے داموں نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ذریعے لوگوں کو سفر کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ ہرنائی اور زاہدان ٹریک کا عرصہ دراز سے تکمیل کے باوجودبحال نہ ہونا تشویشناک ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں خواب خرگوش میں سوئی ہوئی ہیں جبکہ عوام یہاں پریشانی کا شکار ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ ریلوے کے ملازمین کئی روز سے احتجاج کر رہے ہیں انکی شنوائی نہ ہونا قابل مذمت ہے حکومت کوچاہیے کہ وہ نہ صرف بلوچستان سے ماضی میں چلنے والی تمام ٹرینیں بحال کر ے بلکہ ملازمین کے تمام مطالبات کو بھی من و عن تسلیم کرے بلوچستان میں اپوزیشن ارکان ریل مزدور محاذ کوئٹہ ڈویژن کا بھر ساتھ دیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں