پانامہ کے بعد براڈ شیٹ بھی عوامی ایشو بن گیا ہے،شہزاد اکبر
اسلام آباد:معاون خصوصی برائے احتساب و مشیر داخلہ شہزاد اکبرنے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر براڈ شیٹ کی دستاویزات کو وکلا کی مشاورت سے عوامی رسائی تک ممکن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،پانامہ کے بعد براڈ شیٹ بھی عوامی ایشو بن گیا ہے،نیب اور براڈ شیٹ معائدہ تین سال تک چلا اور دیکھنا ہو گا کہ ماضی کی ڈیلز اور این آر او ز کا خمیازہ عوام بھگت رہی ہے،ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کی،شہزاد اکبر نے کہا کہ براڈ شیٹ کے معاملے پرہائیکورٹ فیصلے پر حکومت پاکستان نے اپیل فائل کی تھی،جتنے بھی کمیشن بنائے ہیں ان کی رپورٹ منظرعام پرلائی گئی ہے۔نیب اوربراڈشیٹ کے درمیان معاہدہ جون 2000 میں ہوا، مئی 2008 میں براڈشیٹ کیساتھ سیٹلمنٹ ہوئی،1.5 ملین ڈالرز کی ادائیگی ہوئی،دسمبر 2000 میں نوازشریف ڈیل کرکے سعودی عرب چلے گئے تھے،28 اکتوبر2003 میں نیب نے براڈشیٹ کے ساتھ معاہدہ منسوخ کیا،شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ معاملے پر حکومت پاکستان نے اپیل کی تھی، براڈشیٹ کے معاملے پر وزیراعظم نے کچھ ہدایات دی ہیں، انہوں نے کہا کہ براڈ شیٹ کی کچھ دستاویزات پبلک کر رہے ہیں جہاں تفصیلات تک سب کو رسائی ہو گی،اس حوالہ سے وکلا سے رابطہ کر رہے ہیں،شہزاد اکبر نے بتایا کہ جولائی 2019 میں ہائیکورٹ میں اپیل کی تھی اس کا فیصلہ براڈشیٹ کے حق میں آیا،دیکھا گیا ہے کہ پاناما کے بعد اب براڈ شیٹ پر ملک میں بڑی بحث ہو رہی ہے اور یہ عوامی ایشو ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس تک عوام کو رسائی ملنا ضروری ہے،جولائی2000 میں انٹرنیشنل ایسٹ ریکوری فرم سے ایک دوسرا معاہدہ ہوا،جس پر نواز شریف باہر ملک چلے گئے تھے،نیب کے حوالہ سے شہزاد اکبر نے بتایا کہ نیب اوربراڈشیٹ میں معاہدہ جون 2000 میں ہوا،جتنے بھی کمیشن بنائے ہیں ان کی رپورٹ منظرعام پرلائی گئی ہے تاہم نیب نے 2003میں براڈ شیٹ سے معاہدہ منسوخ کردیا تھا، جتنے بھی کمیشن بنائے ہیں ان کی رپورٹ منظرعام پرلائی گئی،اور20مئی 2008 میں براڈشیٹ کیساتھ سیٹلمنٹ ہوئی ہوا،انہوں نے کہا کہ ایون فیلڈ کی مد میں براڈشیٹ کو 1.5 ملین ڈالرزدیے گئے،اور یہ چیز بھی واضع ہے کہ ماضی کی ڈیلز اور این آر او کا خمیازہ آپ کو بھرنا پڑ رہا ہے،#/s#


