بلوچستان، صحت کی سہولیات کے ساتھ افرادی قوت کا بھی فقدان
کوئٹہ(سٹاف رپورٹر)بلوچستان میں صحت کی سہولیات کا فقدان تاحال برقرار ہے صوبے کو 6000 اسٹاف نرسز کی ضرورت درکار ہے جبکہ صوبے کے عوام کو صرف 1200 کے قریب نرسسز میسر ہیں جن میں 250 کے قریب کنٹریکٹ نرسنگ اسٹاف ہے جبکہ کورونا کے دوران بارڈرز پر ڈیوٹی دینے والا نرسنگ اسٹاف تاحال ٹی اے ڈی اے سے بھی محروم ییں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد آبادی کے صوبے میں صرف 1200 کے قریب نرسز ہیں اْصولی طور پر ڈبلیو ایچ او کے رول کے تحت آئی سی یو میں ایک مریض پر دو نرسز ہونے چاہئیے اس وقت بلوچستان کے 33 میں سے 32 اضلاع میں صرف 3 سے 15 نرسز ہر ضلع میں تعینات ہیں 16 لاکھ سے زائد آبادی کے صوبائی درالحکومت کوئٹہ میں صرف 650 نرسز فرائض انجام دے رہے ہیں 1200 نرسز میں سے بھی 250 کے قریب نرسز کنٹریکٹ پر تعینات ہیں جنہیں تنخواؤں کی وصولی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے جبکہ ایران افغان بارڈر پر کورونا کے دوران ڈیوٹی دینے والے نرسنگ اسٹاف کو تاحال ٹی ڈی اے بھی نہیں دیا گیا ہے بلوچستان کو کم از کم 6 ہزار نرسنگ اسٹاف کی ضرورت درکار ہے محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق ضلع بارکھان میں 1990 کے بعد نرس کی کوئی پوسٹ نہیں دی گئی ہے اسی طرح صوبے مختلف اضلاع میں آبادی تو بڑھ گئی ہے لیکن تاحال نرسنگ اسٹاف میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔


