امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا تجزیہ
جماعت اسلامی اس بار پی ڈی ایم جیسے بڑے اتحاد کا حصہ نہیں بنی۔ اپنی فکر اور سوچ کے مطابق تنہا اپنے سیاسی مشن کو آگے بڑھانے میں مصرروف ہے۔یہ کام مشکل ہوتا ہے لیکن اپنے ورکرز اور ہمدردوں کی کا لہو گرمانے، اور عوام کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لئے مختصر وقفوں کے بعد عوامی اجتماعات کے ذریعے رابطہ ضروری ہوتا ہے۔جماعت بنیادی طور پر ایک مذہبی جماعت ہے اس لئے اسے یہ آسانی حاصل ہے کہ اس کے ورکرز دن میں پانچ باریا اپنی سہولت سے کسی ایک نماز میں جمع ہوجاتے ہیں اور پیغام دوسروں تک پہنچانے کا سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے۔ جب کبھی ملکی اور بین الاقوامی تقا ضوں کے تحت ابھر کر مرکزی کردار سنبھال لیتی ہے۔ ایسا ہی ایک موقع اسے جنرل ضیاء الحق کے دور میں ملا اور اس میں شک نہیں کہ جماعت اسلامی نے بلدیاتی سطح سے قومی اسمبلی تک نمایا ں کراچی میں بلدیاتی ادارے میں دو بار میئرشپ حاصل کی اوراس کی قابل رشک کارکردگی ایک ضرب المثل کا درجہ اختیار کر گئی۔اسے ایم کیو ایم نے مصطفےٰ کمال کے دور میں برابر کیا۔جماعت اسلامی کے مردا ن میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا:”پی ٹی آئی نے نیا پاکستان دینے کاوعدہ کیاتھا مگر پرانا بھی تباہ کر دیا۔ وزیر اعظم کا یو ٹرن ساری دنیا میں ان کی شناخت بن گیا ہے۔بڑے عہدوں پر چھوٹے لوگ بیٹھے ہیں۔حکومت ڈھائی سال میں ہر شعبے میں خراب پرفارمنس دے کر بری طرح ایکسپوز ہوئی ہے“۔امیر جماعت اسلامی کو ایک حد تک اندازہ ہو گیا ہوگا کہ پی ڈی ایم بھی عوام کی ہمدردیاں حاصل نہیں کر سکی۔جماعت اپنے کارکنان اور ہمدردوں کے بل پر اپنے جلسے جلوس جاری ہوئے ہے اسی طرح جے یو آئی کے کارکنان وہاں افرادی قوت فراہم کرتی ہے۔اس کااظہار وقتاً فوقتاًجمیعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کرتے رہتے ہیں۔
جماعت اسلامی کے امیر کا خیال ہے کہ اگر پی ٹی آئی کو آئندہ 5سال بھی مل جائیں تب بھی عمران خان یہی کہیں گے کہ یہ سب سابقہ حکومتوں کا کیا دھرا ہے۔اب تو ایسا لگتا ہے کہ الفاظ نے بھی عمران خان کا ساتھ دینا چھوڑ دیا ہے۔ان ڈھائی برسوں میں ملک کی سڑکوں پراور ایوانوں میں ایم ڈی ایم پر مشتمل 11سیاسی جماعتوں اور جماعت اسلامی نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، اپنی تمام تر قابلیت اور طویل تجربے سے سیکھے گئے تم گر آزمائے مگر پی ٹی آئی کے خلاف عوام کو متحرک کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔یہ سب بلا وجہ تو نہیں۔سیاست بھی عمل اور رد عمل کے اصول کے تابع ہے۔Tit for Tatانگریزوں اور”جیسا کروگئے ویسا بھروگے“جیسی کہاوتیں ہمارے بزرگوں نے بیکار نہیں کہیں۔انسان کو اللہ نے عقل دی ہے،انسان اپنی عقل کے مطابق سوچتا ہے۔اچھے برے کی پہچان رکھتا ہے،اس برسوں پہلے اس حقیقت کا علم ہو گیا تھا یہ انتخابات دنیا کو بیوقوف بنانے کے لئے کرائے جاتے ہیں اور دنیایہ بھی جانتی ہے کہ کہیں بھی شفاف انتخابات کا وجود نہیں ہے۔اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کے نے لئے غیر شفافیت کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔اب تو پی ڈی ایم نے بھی کھلے عام تسلیم کر لیا ہے کہ کل تک وہ خود سیلکٹرز کی آنکھوں کا تارا تھی۔ انہیں شکایت ئیہ ہے کہ ”کیوں نکالا؟“، چار دہائیوں کی خدمات کایہ صلہ دیا کہ تعریفی سند بھی نہیں دی گئی۔الٹا الزامات کی بھی پوٹلی تھما دی ہے کہ ہم کہیں بھی عزت کے ساتھ چار دن نہ گذار سکیں۔پرانے نمک خواروں کے ساتھ ایسا سلوک تو نہیں کیا جاتا۔تعریفی اسناد سے نوازا جاتا ہے۔مگر ہمارے ساتھ یہ ظلم روا رکھا گیا ہے،دن بدن اس میں اضافہ کی خبریں گشت کرنے لگتی ہیں۔ہم نے خوش اسلوبی سے آپ کی خدمت کی،لازم ہے آپ بھی ہنستے مسکراتے ہمیں رخصت کریں۔نیب سے کہا جائے اپنی پرانی اوقات پر رہے،ہم کل بھی کہتے تھے نیب کی کیا مجال ہماری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے،ہم آج بھی کہتے ہیں:”نیب کی کیا مجال ہماری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے“،مگر اگلے روز وہ ہمارے کسی رشتہ دار کے نام نوٹس بھیج دیتا ہے،اسے سمجھائیں ایسا نہ کرے۔کل کی طرح آج بھی ہمارا احترام کرے۔
جمہوریت عوام نے بادشاہ کے ہاتھوں سے بزور بازو چھینی ہے۔ برطانیہ اور جاپان کے بادشاہ نے پارلیمنٹ سے نان نفقہ اور تھوڑے بہت پروٹوکول مانگے اور علامتی حیثیت بچالی۔ہماری پی ڈی ایم کی پیدائش سے پہلے یہ واقعات رونما ہوئے تھے،اور خود سے عالمی تاریخ پڑھنا انہوں نے پسند نہیں کی، اس لئے انہیں شاہانہ اختیارات سے دستبرداری کے بارے میں ادھوری معلومات ہیں، اور ان کے مصاحبین صرف اتنا جانتے ہیں جس کی ان کے لیڈر نے اجازت دی ہے۔شاہی خاندان کیسے وجود میں آتے یا لائے جاتے رہے اب یہ بھی کوئی راز نہیں رہا۔امریکہ ہمارے ہمسایہ ملک ایران کے آخری شہنشاہ کی حفاظت میں ناکام ہواتو ایک معاہدے کے تحت ایرانی روحانی رہنماآیت اللہ خمینیؒ کے طیارے نے لینڈ کیا،عین اسی اسی لمحے شہنشاہ ایران اور ان کے مقرر کردہ آرمی چیف ایران کی سرزمین ہمہشہ کے لئے چھوڑگئے۔کروڑوں عوام اپنے محبوب لیڈر کے والہانہ استقبال کے لئے تہران ایئرپورٹ پر جمع تھے۔شہنشاہیت ایران میں ختم ہو گئی،ایران قائم و دائم ہیں،ایران اس وقت سے اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔8سال تک عراق کے صدر صدام حسین امریکی مفادات کی جنگ لٹے ناکام ہوئے، امریکہ آخر عالمی ممالک کو ضامن بنا کر ایک معاہدہ کرنے میں کامیا ب ہوا جسے باراک اوبامہ کے جانشین ڈونلڈ ٹرمپ نے منسوخ کر دیا۔معاہدہ بحال ہو یا نہ ہو ایک بات طے شدہ ہے کہ شہنشاہ کا بیٹا ایران کی سرزمین پر قدم نہیں رکھ سکے گا۔سعودی شاہی خاندان کو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہم نہ چاہیں تو تم ایک ہفتہ بادشاہ نہیں ر ہ سکتے۔اسرائیل کو عرب ممالک کی طرف سے تسلیم کیا جانا ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کی صداقت کا ثبوت ہے۔اگرکوئی یہ گمان رکھتا ہے کہ اس نے چار دہائیاں کسی چاردیواری سے وفاداری کی ہے یہ خیال دماغ سے نکال دے کہ اسے تا قیامت تک حق حکمرانی مل گیا ہے۔جمہوریت میں یہ حق اسے ملتا ہے آیت اللہ خمینی جیسا عالمی سطح کا عالم ہو مخلوق خدا کو دکھوں سے نکالنے کے لئے اپنی اولاد، اپنامال اور اپنی جان قربان کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ جھوٹے دعویدار تاریخ کے کوڑے دان پر پھینک دیئے جاتے ہیں۔شہنشاہ ایران ایسی ہی ایک مثال ہے۔


