امریکا نے پاکستان، افغانستان، ایران اور روس سمیت 75 ممالک کے لیے ویزوں کا اجرا روک دیا
امریکا نے پاکستان، ایران اور روس سمیت 75 ممالک کے لیے ویزوں کا اجرا روک دیا ہے، جس کا 21 جنوری سے اطلاق ہوگا اور جب تک امیگریشن پراسیسنگ کے طریقہ کار پر نظر ثانی نہیں کرلی جاتی ویزوں کا اجرا نہیں ہوگا، یہ عمل غیرملکیوں کو امریکی مراعات سے فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 75 ممالک کے لیے ویزوں کے اجرا کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے جب کہ ویزا پراسیسنگ کی معطلی کا آغاز 21 جنوری سے ہوگا۔ویزا اجرا روکے جانے والے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان، روس، ایران، صومالیہ، افغانستان، برازیل، نائیجیریا، تھائی لینڈ، عراق، یمن اور مصر بھی شامل ہیں جب کہ بنگلہ دیش، بھوٹان، اردن، کویت، لبنان اور لیبیا کے شہری بھی اس فیصلے سے متاثر ہوں گے۔امریکی حکام کے مطابق ویزا معطلی کا فیصلہ امیگریشن پراسیسنگ کے طریقہ کار پر نظرثانی کے باعث کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد غیر ملکیوں کو امریکی سرکاری مراعات اور فلاحی سہولیات حاصل کرنے سے روکنا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی سفارت خانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت ویزے جاری نہ کیے جائیں جب کہ محکمہ خارجہ اپنے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے۔ ویزا اجرا کی معطلی کی مدت کے حوالے سے کوئی حتمی ٹائم فریم جاری نہیں کیا گیا۔واضح رہے کہ امریکا نے رواں سال اب تک ایک لاکھ افراد کے ویزے منسوخ کردیے ہیں، منسوخ کیے گئے ویزوں میں 8 ہزار ویزے طلبا کے ہیں جب کہ 2500 ویزے ایسے افراد کے ہیں جنہوں نے کسی نہ کسی طریقے سے امریکی قانون کی خلاف ورزی کی۔گزشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے سرکاری ایکس اکاو¿نٹ پر بیان میں کہا تھا کہ امریکا کو محفوظ رکھنے کے لیے ملک بدری (ڈی پورٹیشن) اور ویزا منسوخی کی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔


