قطر میں امریکی فوجی اڈے سے کچھ اہلکاروں کو نکلنے کا کہا گیا ہے، رائٹرز
ویب ڈیسک: تین سفارتکاروں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی فوج کے العدید ایئر بیس پر موجود کچھ اہلکاروں کو بدھ کی شام تک وہاں سے جانے کا کہا گیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایران میں مظاہرین کے تحفظ کے لیے مداخلت کر سکتا ہے۔دوحہ میں امریکی سفارتخانے نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ قطر کی وزارتِ خارجہ نے بھی خبر رساں ادارے روئٹرز کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔العدید مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ ہے جہاں تقریباً دس ہزار فوجی موجود ہیں۔ایک سفارتکار نے روئٹرز کو بتایا کہ ’یہ صرف حکمتِ عملی میں تبدیلی ہے، باضابطہ انخلا کا حکم نہیں دیا گیا۔‘ ان کے مطابق اس تبدیلی کی کوئی خاص وجہ بیان نہیں کی گئی۔ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے روئٹرز کو پہلے بتایا تھا کہ تہران نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے حملہ کیا تو ایران امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مداخلت کی دھمکی دی تھی۔گذشتہ سال، امریکہ کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں سے ایک ہفتہ قبل کچھ اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو مشرقِ وسطیٰ کے امریکی فوجی اڈوں سے منتقل کر دیا گیا تھا۔ جون میں امریکی حملوں کے بعد ایران نے قطر میں موجود اسی اڈے پر میزائل حملہ کیا تھا۔


