ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات اور معاہدوں پر عمل درآمد جاری رہے گا، روس
روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات اور معاہدوں پر عمل درآمد جاری رہے گا اور امریکی دھمکی سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ماسکو میں نمیبیا کے وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں سرگئی لاوروف نے ایران کے ساتھ تجارت پر 25 فیصد امریکی ٹیرف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اپنے رویے سے، امریکہ ان قوانین کو نظر انداز کرتا ہے جن کو اس نے خود فروغ دیا اور گلوبلائزیشن کا نام دیا، وہ اپنے اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا۔‘انھوں نے کہا کہ ’اس طرح کے رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے امریکی ساتھی ناقابل اعتبار ہیں اور وہ ہمیشہ اپنے تیل کے وسائل کو صرف اور صرف اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دھمکیاں اور براہ راست دباو¿، بشمول محصولات کا نفاذ۔‘روس کے وزیر خارجہ نے حالیہ پیش رفت کی روشنی میں ایران کے ساتھ تعلقات کے تسلسل کے بارے میں کہا کہ ’ہمیں اپنا کام جاری رکھنا چاہیے اور ایران اور دیگر اقتصادی شراکت داروں کے ساتھ اپنے معاہدوں پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ جب امریکہ جیسا طاقتور ملک اس طرح کے غیر مہذب طریقے اختیار کرتا ہے تو اس کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے: امریکہ کی مسابقتی پوزیشن مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے۔‘سرگئی لاوروف نے زور دے کر کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ کوئی تیسرا فریق روس ایران تعلقات کی نوعیت کو بدل سکتا ہے۔ یہ تعلقات روس اور ایران کے صدور کے معاہدوں پر مبنی ہیں اور دونوں ممالک کے مفادات کے مطابق ہیں۔‘گذشتہ روز روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران میں فوجی مداخلت کی امریکی دھمکی کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔


