بلوچستان میں میرٹ کی بحالی: ایک تاریخی موڑ
تحریر: شیخ عبدالرزاق
بلوچستان میں سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے طویل عرصے سے ایک ایسا کلچر رائج رہا ہے جس میں اہلیت، محنت اور قابلیت کے بجائے پیسے کے ذریعے نوکری حاصل کرنا معمول سمجھا جاتا تھا۔ سرکاری ملازمت کو صوبے میں معاشی تحفظ اور سماجی حیثیت کی علامت تصور کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس سوچ نے رفتہ رفتہ ایک منظم اور طاقتور روایت کی شکل اختیار کر لی۔ اس کلچر کا سب سے پہلا اور بڑا نقصان میرٹ اور محنت کا قتل تھا، جس کے نتیجے میں نوجوانوں کے دلوں میں ریاست کے لیے بداعتمادی، محرومی اور ناامیدی نے جنم لیا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دہائیوں سے رائج اس فرسودہ نظام کو بدلنے کی سنجیدہ کوشش کبھی کسی سیاسی قیادت کی جانب سے سامنے نہیں آئی، خواہ وہ مکران کے قوم پرست ہوں یا لسبیلہ و آوران کے وفاقی سیاست دان۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالتے ہی صوبائی اسمبلی کے فلور پر دوٹوک اعلان کیا تھا کہ بلوچستان میں اب نوکریاں فروخت نہیں ہوں گی اور میرٹ و شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ یہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک مشکل اور چیلنجنگ عزم تھا، جس کا پہلا عملی امتحان انہیں ایس بی کے ٹیسٹ کے بحران کی صورت میں وراثت میں ملا۔ شدید دباﺅ اور مختلف النوع رکاوٹوں کے باوجود وزیر اعلیٰ نے کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیوں کے لیے ایک نسبتاً شفاف نظام متعارف کروایا، جو اس سے قبل بلوچستان میں دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ اگرچہ اس نظام میں بھی غلطی کی گنجائش موجود تھی، یہی وجہ تھی کہ وزیر اعلیٰ ہمیشہ 100 فیصد کے بجائے 99 فیصد میرٹ پر بھرتیوں کا دعویٰ کرتے رہے۔
بلوچستان کے پیچیدہ سماجی و سیاسی حالات اس بات کے متقاضی تھے کہ ایسا نظام متعارف کروایا جائے جس میں انسانی مداخلت، سفارش اور بدنیتی کی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔ اسی مقصد کے تحت بلوچستان کے فرزند اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ سیکرٹری خزانہ عمران زرکون نے ایک غیر معمولی اور جرات مندانہ قدم اٹھایا۔ حکومت بلوچستان کے محکمہ خزانہ کو گریڈ 14 کی 111 اسامیوں پر بھرتیاں درکار تھیں، جنہیں وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کے وژن کے عین مطابق مکمل میرٹ پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے فائننس ڈیپارٹمنٹ نے ایک جدید آن لائن پورٹل تشکیل دیا، جو صوبے میں اپنی نوعیت کا پہلا شفاف اور رئیل ٹائم مانیٹرنگ میکانزم تھا، جس کے ذریعے تمام امیدواروں کی مکمل معلومات لمحہ بہ لمحہ دستیاب تھیں۔
17 جنوری 2026 کو بلوچستان بھر سے 5900 سے زائد امیدوار بیوٹمز، کوئٹہ میں آن لائن ٹیسٹ دینے کے لیے جمع ہوئے۔ یہ صوبے کی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب بھرتیوں کا کنٹرول نہ کسی وزیر کے ہاتھ میں تھا اور نہ ہی کسی بااثر بیوروکریٹ کے۔ صبح نو بجے ٹیسٹ کا آغاز ہوا۔ چونکہ یہ نظام پہلی مرتبہ نافذ کیا جا رہا تھا، اس لیے ابتدائی مرحلے میں کچھ تکنیکی مسائل سامنے آئے، جنہیں سیکرٹری خزانہ عمران زرکون اور ان کی ٹیم نے خندہ پیشانی، پیشہ ورانہ مہارت اور تحمل کے ساتھ حل کیا۔ ماضی کی روایت کے مطابق کچھ امیدواروں نے اپنی جگہ کسی اور شخص کو امتحان دلوانے کی کوشش کی، تاہم جدید سسٹم اور سخت نگرانی کے باعث ایسی تمام کوششیں بروقت ناکام بنا دی گئیں۔
ابتدائی ایک گھنٹے کی معمولی بدانتظامی کے بعد ٹیسٹ نہایت خوش اسلوبی سے جاری رہا۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مکمل آزادی دی گئی کہ وہ خود ٹیسٹنگ کے عمل کا مشاہدہ کریں۔ بالآخر شام سات بجے کے قریب تمام امیدواروں کا امتحان مکمل کر لیا گیا اور مختصر وقفے کے بعد کامیاب امیدواروں کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے تقرری کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے۔
یہ بظاہر ایک چھوٹا سا قدم ہے، مگر درحقیقت بلوچستان میں ایک تاریخی اور فیصلہ کن تبدیلی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ میرٹ کا وہ کلچر، جہاں سفارش اور پیسے کی کوئی گنجائش نہ ہو، صوبے کے نوجوانوں کو ریاست کے قریب لانے اور ان کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اگر وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی قیادت میں اسی طرز کا شفاف اور ڈیجیٹل بھرتی نظام صوبے کی تمام سرکاری ملازمتوں پر نافذ ہو جاتا ہے تو نہ صرف سروس ڈیلیوری میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ اس پسماندگی کے خاتمے کا عملی آغاز بھی ہو جائے گا، جس کا شکوہ برسوں سے کیا جاتا رہا ہے۔


