عمران خان کے معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، محمود خان اچکزئی

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور سربراہ اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے عمران خان کی صحت بارے خبروں پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے سخت ردعمل دیاہے۔ جاری بیان میں محمود اچکزئی نے کہا کہ عمران خان کو فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر ہسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ہے، قیدی کی صحت و جان کی ذمہ داری مکمل طور پر قید میں رکھنے والوں پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو بغیر اطلاع ہسپتال منتقل کرنا آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیرنا ہے، عدالتی احکامات کے باوجود ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی نہ دینا بے آئینی کی بدترین مثال ہے۔انہوںنے کہا کہ عمران خان کی طبی حالت فی الفور فیملی کے سامنے لائی جائے، عمران خان کے معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، عمران خان ایک قیدی ہیں، ان کے ساتھ کسی خفیہ سلوک کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔محمود خان اچکزئی نے کہاکہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے کسی بھی نقصان کی ذمہ داری تحویل میں رکھنے والوں پر ہوگی، قوم 8فروری کو عمران خان کی رہائی کےلئے پورا ملک بند کرے۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ عمران خان کو ان کے ذاتی معالجین اور اہلِ خانہ سے دور رکھنا غیر انسانی اقدام ہے، ایک قیدی کو لاعلم رکھ کر ہسپتال منتقل کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی قسم کا ابہام قبول نہیں کیا جائے گا، عمران خان کے ذاتی ڈاکٹروں کو فوری رسائی نہ دینا عدالتی احکامات کی توہین ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جان کے ساتھ کسی بھی قسم کا کھیل ناقابل برداشت ہوگا، عمران خان کی صحت پر ریاستی اداروں کی خاموشی تشویش ناک اور سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہاکہ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ عمران خان کے معاملے میں جان بوجھ کر تاخیر کے سنگین نتائج ہوں گے، عمران خان جس کی تحویل میں ہیں وہی ان کی جان و صحت کے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کی صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے لائے جائیں، عمران خان کو طبی سہولیات سے محروم رکھنا ظلم اور ناانصافی ہے، قوم 8 فروری کو اس نا انصافی پر پورا ملک شٹر ڈان و پہیہ جام کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں