کوئٹہ حلیم پلازہ میں آتشزدگی کی وجہ سے تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا، حکومتی سطح پر اب تک داد رسی نہیں کی گئی، نیشنل پارٹی
نیشنل پارٹی کوئٹہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پرنس روڈ پر واقع حلیم پلازہ میں گزشتہ دنوں ایک دلخراش آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں تاجروں کو کروڑوں کا نقصان ہوا اس میں ایسے تاجر اور دکاندار بھی شامل ہے جو بے آسرا اور بے یار ومددگار ہوئے انکی زندگی بھر کی کمائی اور جمع پونجی جل کر خاکستر ہوئے یہ امر تشویشناک ہے کہ چند منٹ کے فاصلے پر فائر برگیڈ ہونے کے باوجود عملہ وقت پر نا پہنچ سکا جس سے پلازہ کا بڑا حصہ متاثر ہوا اور تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا، ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس دلخراش واقعہ کے فورا بعد حکومتی سطح پر شفاف تحقیقات کی جاتی تاجروں کی داد رسی اور مالی ازالہ کیا جاتا مگر افسوس کی بات ہے کہ حکومت نے ان تاجروں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ بلوچستان میں پہلے ہی غربت اپنے انتہا پر ہے بارڈر بند بیروزگاری اور پورا صوبہ بدامنی کی لپیٹ میں ہے حکومتی رٹ نا ہونے کے برابر ہے ایسے حالات میں یہ بے آسرا تاجر جاہے تو جائے کہاں، کوئٹہ کے تاجروں کے ساتھ ظلم کی انتہا ہے ایک جانب تاجروں کے دکان اور گوداموں پر رات کے اندھیرے میں مختلف بہانوں سے چھاپے مار کر انہیں عدم تحفظ کا شکار بنا دیا گیا اور دوسری جانب حلیم پلازہ جیسے دلخراش واقعات میں بھی انکی داد رسی نہیں کی جاتی ہے اس کے برعکس دوسرے صوبوں میں اس قسم کے سانحہ کے بعد فوری طور حکومت نے اپنے تاجروں کا ازالہ کیا مگر بلوچستان پر مسلط فارم 47 کی جعلی حکومت نے حسب روایت تاجروں کے اربوں روپے ٹیکس دینے کے باوجود ان متاثرین کو اب تک بے یار و مددگار خدا کے آسرے پر چھوڑا ہوا ہے جس کی نیشنل پارٹی کوئٹہ شدید الفاظ میں مزمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ سانحہ حلیم پلازہ کی شفاف تحقیقات کرکے متاثرین کے نقصانات کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے۔


