بلوچستان کے 30 ہزار نوجوانوں کوباہر ممالک میں روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، مینا مجید

کوئٹہ(آئی اےن پی) حکومت بلوچستان کے محکمہ داخلہ کی جانب سے ”کاونٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم“ کے موضوع پر تین روزہ پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا۔ پالیسی ڈائیلاگ کی افتتاحی تقریب سے صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان مینا مجید، ڈی آئی جی سِی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایا، چیف کوآرڈنیشن افیسر سی وی ای ڈاکٹر دوست محمد بڑیچ، ڈاکٹر عصمت اللہ، اسرار احمد مدنی، افتخار فردوس، فہد نبیل اور دیگر شرکائنے خطاب کیا۔صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان مینا مجید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں نوجوانوں کی سماجی و اقتصادی خوشحالی کے لیے یوتھ پالیسی پر کام کر رہی ہے، جس کے لیے یوتھ سوشیو اکنامک ڈویلپمنٹ پروگرام جیسے اہم منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس پراجیکٹ کے تحت نوجوانوں کو بے بنیاد اور منفی پروپیگنڈے اور غلط معلومات سے بچنے کے لیے آگاہی دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی کیرئیر کاو¿نسلنگ کے لیے یوتھ ریسورس سینٹر قائم کیا گیا ہے۔صوبائی مشیر نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان انتہائی باصلاحیت ہیں، ان کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت بلوچستان انہیں باقاعدہ ٹریننگ دے رہی ہے اور انہیں تربیت دے کر 30 ہزار نوجوانوں کو دیگر ممالک میں روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مزید براں نوجوانوں کو ڈیجیٹل ٹریننگ دے کر انہیں لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، تاکہ وہ گھر بیٹھے آن لائن روزگار کے قابل بن سکیں۔ اس کے علاوہ صوبے میں فٹ بال اور کرکٹ کے ٹورنامنٹس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ تاکہ کپٹھیل کیساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی سرگرم رہے۔صوبائی مشیر نے کہا کہ صوبائی حکومت نے نوجوان نسل کو تعلیمی سہولیات یقینی بنانے کے لیے گھوسٹ اسکول بحال کیے ہیں، تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔تقریب سے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایا دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کو ”کاو¿نٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم“ جیسے اہم موضوع پر پالیسی ڈائیلاگ کے انعقاد کو احسن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام مستقبل میں بھی منعقد ہونے چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے