سرد موسم اورحکومتی اقدامات

تحریر:۔ عنایت الرحمن
اس بار موسم نے ایک مرتبہ پھر ماضی کے اوراق پلٹ دیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے رت بدلی، بارش اور برف باری نے جل تھل مچا دیا۔ موسموں کے بدلتے تیوروں کا سامنا تو انسان ازل سے کرتا آ رہا ہے، اور آج بھی چاہے ترقی یافتہ ممالک ہوں، ترقی پذیر یا پسماندہ، سب ہی موسمی تغیرات کی زد میں نظر آتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کی آب و ہوا کچھ ایسی ہے کہ یہاں زخم جلد مندمل ہو جاتے ہیں، مگر یہ بھی سچ ہے کہ اپنوں کے لگائے زخم دیر تک ہرے رہتے ہیں۔ اس میں کتنی حقیقت ہے، یہ اہلِ ماضی و حال بہتر جانتے ہیں۔
زخموں کی بات چلی ہے تو گزشتہ دنوں کا سانحہ گل پلازہ بھی کچھ ایسے ہی کچوکے لگا گیا ہے جو برسوں تازہ رہیں گے۔ گل پلازہ، گلوں میں لگی آگ سے خاکستر ہو گیا۔ اگرچہ یہ گل مصنوعی تھے، مگر اس سانحے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس سانحے کی بازگشت ابھی مدہم بھی نہ ہوئی تھی کہ کوئٹہ میں ایک اور پلازہ آگ کی نذر ہو گیا۔ دونوں واقعات میں اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا، کئی خواب بکھر گئے اور کئی گھر اجڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ تمام مرحومین پر رحم فرمائے۔
بات اگر پھر موسم کی کی جائے تو کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں ہونے والی برف باری نے زمین کو سفید چادر اوڑھا دی۔ دو تین دن کی مسلسل بارش اور برف باری کے باعث رابطہ سڑکیں منقطع ہو گئیں، حرارت مہیا کرنے والے ذرائع ماند پڑ گئے اور لوگ ٹھٹھر کر گھروں تک محدود ہو گئے۔ جن کے پاس وسائل تھے وہ موسم کا لطف اٹھانے نکل کھڑے ہوئے اور سوشل میڈیا پر ہر طرف جشن کا سماں نظر آیا، مگر دوسری جانب صوبائی حکومت اور متعلقہ ادارے مکمل طور پر الرٹ رہے۔
حکومت بلوچستان کی جانب سے بروقت الرٹس جاری کیے گئے اور صوبے بھر کی ضلعی انتظامیہ کو چوکس کر دیا گیا تاکہ دور دراز اور برف سے متاثرہ علاقوں کے عوام کے لیے ممکنہ حد تک آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے صورتحال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اس موسمی تبدیلی کو محض قدرتی منظرنامہ نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا سنجیدہ مرحلہ قرار دیا، جہاں ہر لمحہ اور ہر جان قیمتی تھی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں تمام ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ نے بھرپور انداز میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری رکھا، جس کی دن رات نگرانی کی جاتی رہی۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان کی کارکردگی بھی قابل تحسین رہی، جس نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے صوبے کی اہم شاہراہوں کو زیادہ تر وقت قابلِ آمدورفت رکھا۔ وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کی خصوصی ہدایات پر ڈی جی پی ڈی ایم اے کی زیر نگرانی مشینری اور عملہ ہمہ وقت فیلڈ میں موجود رہا اور برف باری سے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کو محفوظ بنانے کا عمل مسلسل جاری رکھا گیا۔
زیارت میں شدید برف باری کے باعث سیاحوں کی بڑی تعداد مختلف مقامات پر پھنس گئی تھی، جنہیں ایف سی بلوچستان نارتھ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ریسکیو کیا اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ اسی طرح سڑکوں کی بحالی، پھنسی ہوئی گاڑیوں کو نکالنے اور سخت موسم کے باوجود امدادی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں۔ ایف سی کی جانب سے دور دراز علاقوں میں بچوں اور مریضوں کے لیے ضروری امداد اور ادویات کی فراہمی بھی یقینی بنائی گئی۔
شدید برف باری کے باعث توبہ اچکزئی کا راستہ بند ہو گیا تھا، جس سے مقامی آبادی اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ضلعی انتظامیہ چمن اور متعلقہ محکموں نے دو دن کی مسلسل کوششوں کے بعد بھاری مشینری کی مدد سے سڑک سے برف ہٹا کر راستہ بحال کیا۔ اسی طرح ضلعی انتظامیہ زیارت نے شدید برف باری اور منفی پندرہ ڈگری درجہ حرارت میں کوتل سڑی کے مقام پر پھنسی میت لے جانے والی ایمبولنس کو آدھی رات میں بحفاظت راستہ فراہم کیا۔ ایمبولنس کے ہمراہ خواتین اور بچے بھی محصور ہو گئے تھے، جنہیں کامیابی سے ریسکیو کیا گیا۔
صوبے بھر میں محکمہ صحت کے اسپتال بھی غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر الرٹ رہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ بارشوں اور برف باری کا یہ سلسلہ اب اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ اگرچہ چند مقامات پر قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی خبریں سامنے آئیں، تاہم مجموعی طور پر صورتحال قابو میں رہی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی بھرپور نگرانی میں صوبے بھر کی ضلعی انتظامیہ اس پورے عمل کے دوران متحرک رہی اور عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے بروقت اقدامات کرتی رہی، جو بلاشبہ قابل ستائش ہیں اور ایک ذمہ دار ریاستی نظم و نسق کی عکاسی کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں