افغانستان پر پاکستانی فضائی حملوں میں کم از کم 13 شہری جاں بحق، 7 زخمی ہوئے، اقوام متحدہ
ویب ڈیسک : افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) نے کہا ہے کہ اسے پاکستان کی جانب سے 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب افغانستان کے اندر کیے گئے فضائی حملوں کے نتیجے میں شہری جانی نقصان کے قابلِ اعتبار اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔یوناما کے مطابق 21 فروری کی رات تقریباً 11:45 بجے سے 22 فروری کی ابتدائی ساعتوں تک پاکستانی فوجی دستوں نے صوبہ ننگرہار کے اضلاع بہسود اور خوگیانی میں فضائی حملے کیے۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 13 شہری جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔اقوام متحدہ کے مشن نے مزید بتایا کہ صوبہ پکتیکا کے اضلاع برمل اور ارگون میں بھی فضائی کارروائیاں کی گئیں۔ برمل ضلع کے مرغئی علاقے میں ایک مدرسے کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ہے جس سے قریبی مسجد کو جزوی نقصان پہنچا، جبکہ ارگون ضلع کے دہنہ علاقے میں ایک نجی رہائشی مکان کو جزوی طور پر تباہ کیا گیا۔ ان دونوں واقعات میں تاحال شہری ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوئی۔یوناما نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔ بیان میں بین الاقوامی قانون کے تحت امتیاز (Distinction)، تناسب (Proportionality) اور احتیاط (Precaution) کے اصولوں کی پابندی پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ شہری ہلاکتوں سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب پاکستانی کی جانب سے ان حملوں کے حوالے سے جاری کردہ مو¿قف میں کہا گیا ہے کہ کارروائیاں دہشت گرد عناصر کے خلاف کی گئیں


