ایران کیخلاف محدود فوجی حملہ کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ َٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر محدود فوجی حملے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔ جمعہ کے روز وائٹ ہاﺅس میں میڈیا سے ہونے والی بات چیت کے اختتام پر ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا، ’ کیا آپ ایران پر معاہدے کے لیے دباو¿ ڈالنے کے لیے محدود پیمانے پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟‘ اس سوال پر صدر ٹرمپ نے کچھ لمحوں کا وقفہ لیا اور کہا ’میرے خیال میں، میں یہ کہہ سکتا ہوں کے ایسا سوچ رہا ہوں۔‘ اس سے قبل امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے خبر دی تھی کہ ٹرمپ ایران کے خلاف ’محدود فوجی حملہ‘ کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس پر دباﺅ ڈالا جائے کہ وہ جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکی شرائط کو تسلیم کرے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ممکنہ کارروائی میں محدود پیمانے پر فوجی یا سرکاری مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اگر تہران معاہدے کی تعمیل کرنے سے انکار کرتا ہے تو بعد میں حملوں کو وسعت دی جائے گی جس کا مقصد ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا ہو گا۔ تاہم وال اسٹریٹ جنرل کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی بھی حملے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، لیکن وہ ایک مختصر مدت کی مہم سے لے کر ایرانی فوجی اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ایک بڑی مہم تک کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ دوسری جانب جمعہ کے روز ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران ایک ’ممکنہ معاہدے کے مسودے‘ پر کام کر رہا ہے اور اگلے چند دنوں میں اسے امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے حوالے کر دیا جائے گا۔


