جنگ کا منافہ خور نہیں متاثرہ ہوں، وزیراعلی بلوچستان

کوئٹہ(این این آئی)وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ہماری پہچان سب سے پہلے پاکستانی ہے پھر ہم بلوچ یا کچھ اور ہوں گے ریاست ہر صورت اپنے شہریوں کا تحفظ کرے گی کوئٹہ میں ڈی ریڈی کلائزیشن سینٹر فعال کر دیا گیا ہے جہاں زیر حراست افراد کو اہل خانہ سے ملاقات سمیت ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے ریاست کے پیسوں سے ریاست مخالف سرگرمیاں نہیں ہونے دیں گے بلوچستان کے نوجوانوں کو یونیورسٹیوں سے نکال کر خودکش بمبار بنانا کون سی خدمت ہے بیرون ملک منظم گروہ نوجوانوں کو دہشت گردی کی جانب راغب کر رہے ہیں یہ بات انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پوائنٹ آف ارڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں پوائنٹ آف ارڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ کابینہ نے پسنی فش ہاربر سے متعلق جو کمیٹی بنائی تھی اس نے تجویز دی تھی کہ فش ہاربر کے حوالے سے موجود اداروں کو محکمہ فشریز میں ضم کیا جائے لیکن اب دستاویزات میں یہ کہا گیا ہے کہ ان دونوں اداروں کو بتدریج ختم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہاربر ٹھیک ہو جائے تو یہ اپنی آمدن خود پیدا کرے گا دونوں اداروں کے ملازمین کی تنخواہ 36 کروڑ روپے بنتی ہےانہیں ڈائینگ کیڈر میں ڈال کر ختم نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے زبانوں کے لیے قائم سرکاری اور غیر سرکاری اکیڈمیوں کے بورڈ میں محکمہ خزانہ کے ایڈیشنل اور ڈپٹی سیکرٹری شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ایک اکیڈمی جس کی گرانٹ پانچ لاکھ روپے ہے اور وہ تربت میں قائم ہے اس کے لیے ہر بار بورڈ اجلاس میں شرکت کے لیے یہاں سے سرکاری افسر جائیں گے جو کہ مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی گرانٹ پر بلوچی براہوی پشتو اور ہزارگی اکیڈمیز کا بمشکل گزر بسر ہو رہا ہے اگر حکومت کو اکیڈمیز کی سرگرمیوں میں کوئی مسئلہ نظر آتا ہے تو ان کا آڈٹ کر لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے میں نیشنل پارٹی کے چار سے پانچ لوگوں کو جھاو¿ گشکور کوگدان سمیت دیگر علاقوں میں شہید کیا گیا ہے اس کا نوٹس لیا جائے۔ اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے بی این پی عوامی کے رکن میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ مادری زبانوں کی ترویج آئین کا حصہ ہے اکیڈمیز کو مزید بہتر بنانا چاہیے۔پنجگور میں ہر روز لاشیں گر رہی ہیں میرے گاو¿ں میں سات لوگوں کی لاشیں پھینکی گئی ہیں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پہاڑ پر لڑ رہا ہے تو اس سے لڑا جائے مگر عام آبادی پر ہتھیار نہ اٹھائے جائیں وزیراعلی جرگہ بلا کر عوام کو اعتماد میں لیں 35 لوگوں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں ان کی نوکریاں خطرے میں ہیں جس پر وزیراعلی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت نقصان اٹھایا ہے پورا ایوان پنجگور اور تربت میں دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مادری زبان معدوم ہونے کے قریب ہیں ہم نے ان کی ترویج کرنی ہے اور معدومیت سے روکنا ہے حکومت نے کبھی نہیں کہا کہ وہ اکیڈمیز پر قدغن لگائی گئی اکیڈمیز کے سپیشل برانچ کی آدٹ رپورٹ میں بہت سی چیزیں ابھر کر آئی ہیں جنہیں ہم درست کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو اکسا کر ریاست مخالف کیا جا رہا ہے اور انہیں خودکش بمبار بننے کی ترغیب دی جاتی ہے حکومت صرف اکیڈمیز کے مالی معاملات کی نگرانی کرنا چاہتی ہے تاکہ کوئی بھی ریاست کی رقم کو ریاست کے خلاف استعمال میں نہ لائے۔وزیراعلی نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ سال 14 ارب روپے کی بچت کی ہے ہم صرف ایک ارب روپے کے اخبارات پڑھتے تھے جسے بند کیا ہے وزیراعلی ہاو¿س کی 435 خالی آسامیوں کو دوبارہ محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کو بھیجا ہے ہم سے پف ٹیک نے 15 نائب قاصد مانگے تھے جو اضافی کوٹے سے انہیں فراہم کر دیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی سرکاری ملازم کو نوکری سے نہیں نکال رہے بلکہ ختم ہونے والے کیڈر کا تحفظ کر رہے ہیں حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے 12 ارب روپے کی ہیلتھ انشورنس اسکیم شروع کی ہے جس سے حکومت کو چھ ارب روپے کی بچت ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسن کا مسئلہ پیچیدہ ہے ہماری جماعت ہمیشہ مسنگ پرسنز کے خلاف رہی ہے محترمہ بے نظیر بھٹو کی آخری تقریر بھی مسنگ پرسن پر تھی ہماری اتحادی جماعت کی رہنمائ مریم نواز خود مسنگ پرسنز کے کیمپ میں جاتی رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خواہ میں مسنگ پرسنز کی تعداد بلوچستان سے بہت زیادہ ہے اس پر کبھی واویلا نہیں ہوتا امریکہ میں 20 ہزار لوگ مسنگ ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں اس مسئلے کی حمایت کرتا ہوں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو اس مقصد کے لیے ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹر قائم کیے جا رہے ہیں کوئٹہ میں اس سینٹر کا افتتاح کر دیا گیا ہے جبکہ جنوبی اضلاع میں سینٹر قائم کرنے کے لیے رقم کی منظوری دے دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ خود ساختہ اور جبری گمشدگی میں فرق ہے یہ طے کرنا کہ کون جبری طور پر گمشدہ ہے اس کا طریقہ کار موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے رہنما نے کہا کہ ہم جنگ کے منافہ خور ہیں ایسا بالکل نہیں میں خود جنگ کا متاثرہ ہوں میرے 300 لوگ شہید ہوئے ہیں آج بھی ہمیں خطرات لاحق ہیں میں خود مسنگ پرسن رہ چکا ہوں انہوں نے کہا کہ اس جماعت کے رہنما نے تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا جب وہ تضحیک کریں گے تو بدلے میں انہیں بھی تضحیک ہی ملے گی سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن جب وہ شائستگی کا دامن چھوڑیں گے تو انہیں بھی بدلے میں ویسا ہی جواب ملے گا جو ہماری عزت کرے گا ہم اس سے 10 گنا بڑھ کر عزت دیں گے انہوں نے کہا ہمارا سیاسی فائدہ امن امان بہتر ہونے میں ہے حکومت نے قانون منظور کیا ہے کہ کسی کو بھی حراست میں لینے کے بعد 12 گھنٹے کے اندر اندر اس کے اہل خانہ کو بتایا جائے گا مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا تین ماہ کی حراست کے دوران ہر ہفتے پہلے خانہ سے ملاقات کروائی جائے گی اس موقع پر وزیراعلی نے کوئٹہ کے ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹر کی ویڈیو بھی دکھائی۔ وزیراعلی نے کہا کہ ڈی ریڈیکلائزڈ سینٹر میں حراست کی توسیع ہائی کورٹ سے حاصل کی جائے گی اس کا انچارج بھی سویلین ایس پی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کے ممالک میں منظم انداز میں لوگ بیٹھ کر بیرون ملک سے نوجوانوں خاص طور پر یونیورسٹی جانے والوں کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں اور دہشت گردی کی ترغیب دی جاتی ہے بشیر زیب نے کاروائی کر کے 190 بلوچ مروا دیے انہوں نے کہا کہ بلوچستان تشدد سے آزاد نہیں ہو سکتا یونیورسٹی سے نوجوانوں کو نکال کر خود کش حملہ آور بنانا کون سی خدمت ہے خدمت یہ ہے کہ بلوچستان حکومت نے نوجوانوں کے لیے ہاورڈ سمیت عالمی سطح کے اداروں کے دروازے کھولے ہیں انہوں نے کہا کہ ہماری شناخت پہلے پاکستانی ہے پھر ہم بلوچ یا بگٹی ہوں گے انہوں نے کہا کہ جب میں شہید کے گھر جاتا ہوں تو مجھے دکھ ہوتا ہے غصہ آتا ہے اور جذباتی بھی ہوتا ہوں یہ ایک فطری عمل ہے مجھے احساس ہے کہ مجھے جذباتی نہیں ہونا لیکن شہداءکو دیکھ کر جذباتی ہو جاتا ہوں انہوں نے کہا کہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنے لوگوں کا احساس کروں کوئی بھی تنازعہ اگر بات چیت سے حل ہوتا ہے اور اگر کوئی بات چیت کروانے کے لیے تیار ہے تو ہم ان کے ساتھ ہیں مگر اس وقت وہ لوگ دہشت گردی اور بندوق کی نوک پر تنازعہ حل کرانا چاہتی ہے جو کہ ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ حکومت ہر حد تک اپنے شہریوں کا تحفظ کرے گی گورننس کو بہتر بنائیں گے انہوں نے کہا کہ اکیڈمیز کو خراب نہیں کریں گے پاکستان مخالف عمل اپنے پیسوں سے ہونے نہیں دیں گے بعد ازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منگل سات اپریل تکوی کر دیا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں