ماہ رنگ کی ویڈیو پوسٹ کرنے پرمجھے پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا وکلاء میرا ساتھ دیں، نیاز بلوچ

مستونگ کے رہاشی نیاز بلوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ کی ویڈیو پوسٹ کرنے پر سی ٹی ڈی کی جانب سے پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا ہے اور میں بلوچ وکلا برادری سے کیس لڑنے کی اپیل کرتا ہوں انہوں نے کہا ہے کہ میں ایک صحافی اور طالب علم ہوں میرے والد ایک بس ڈرائیور ہیں جبکہ میرے چھوٹے بہن بھائی یونیورسٹی اور کالج میں تعلیم حاصل کر رہے ہیںمیں اور میرا خاندان گزشتہ دو سالوں سے جبر اور سختیوں کا سامنا صرف اس لیے کر رہے ہیں کہ میرا قلم مظلوم و محکوم بلوچ قوم کے لیے چلتا ہے حالانکہ میرا قلم آج تک کبھی بھی ریاستی معتبر اداروں، جرنیلوں، کرنلوں یا حکمرانوں کے خلاف استعمال نہیں ہوا، اس کے باوجود بغض پر مبنی مقدمات کا سامنا کرنے پر مجبور ہوں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ میں نے بڑی مشکل سے اپنی ضمانت کروائی اور اس مقدمے کا سامنا کیا مستونگ کے سیشن کورٹ میں ایڈووکیٹ چیف عطاءاللہ اور ایڈووکیٹ نجیب شاہوانی نے کئی پیشیوں پر میرا کیس لڑا اب اس مقدمے کو مستونگ سے منتقل کر کے کوئٹہ کے سیشن کورٹ میں منتقل کر دیا گیا ہے میں ایک طالب علم ہوں اور میری مالی حالت ایسی نہیں کہ میں اتنا بڑا اور سنگین مقدمہ اکیلا لڑ سکوں اسی لیے میں بلوچستان کی وکلا برادری سے عاجزانہ گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس مشکل وقت میں میرا ساتھ دیں اور اس مقدمے کو لڑنے میں میری مدد کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں