پاکستان ایران سرحد پر آمدورفت میں نرمی، پنجگور میں جیراک بارڈر کراسنگ کو سرحدی فہرست میں شامل کرکے فعال کردیا گیا، ایف بی آر کا نوٹیفکیشن جاری
کوئٹہ (یو این اے) مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں حکومت پاکستان نے پاکستان ایران سرحد پر آمد و رفت میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ضلع پنجگور میں واقع جیراک کے مقام کو باقاعدہ سرحدی کراسنگ پوائنٹ قرار دے دیا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ حالیہ نوٹیفکیشن کے مطابق جیراک بارڈر کراسنگ کے ذریعے اب مسافروں اور تجارتی سامان کی قانونی آمد و رفت ممکن ہوسکے گی۔ اس اہم فیصلے کے لیے 1983ئ کے قدیم ایس آر او (SRO) میں ضروری ترامیم کرتے ہوئے جیراک کو باضابطہ طور پر سرحدی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد سرحدی علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور مقامی آبادی کے لیے آمد و رفت کے مسائل حل کرنا ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق جیراک کراسنگ پوائنٹ کے فعال ہونے سے نہ صرف پاکستان ایران دو طرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ پنجگور اور گردونواح کے علاقوں میں معاشی خوشحالی کی نئی لہر بھی پیدا ہوگی۔ حکومت نے اس مقام پر کسٹمز اور امیگریشن کے عمل کو بھی مزید سہل بنانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔


