ایران آبنائے ہرمز میں ٹول وصولی کا نظام قائم کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے جو ناقابل قبول ہو گا، امریکی سیکریٹری خارجہ
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ زمینی فوجی دستے بھیجے بغیر ایران جنگ کے اہداف حاصل کر سکتی ہے جبکہ وہ 15 نکاتی امن منصوبے پر ایران کے جواب کے منتظر ہیں۔جی سیون کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں زمینی فوج اتارنے پر غور کر رہا ہے تو روبیو نے کہا کہ وہ فوجی حکمتِ عملی پر بات نہیں کریں گے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے مقاصد واضح ہیں اور ’ہمیں پورا یقین ہے کہ ہم بہت جلد ان کے حصول کے قریب ہیں‘۔ایران میں امریکی کارروائی کب تک جاری رہے گی؟ اس سوال کے جواب میں روبیو نے کہا کہ ’یہ معاملہ ہفتوں کا ہے، مہینوں کا نہیں۔‘جب ان سے دوبارہ پوچھا گیا کہ کیا امریکہ ایران میں زمینی فوج بھیجے گا تو ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے اہداف ’کسی بھی زمینی فوج کے بغیر حاصل کر سکتا ہے۔‘ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ آج امریکہ کے 15 نکاتی منصوبے پر ایران کے جواب کی توقع کر رہے ہیں؟بی بی سی کے شراکت دار سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ایران کا جواب جمعے کو متوقع ہے۔روبیو نے کہا کہ ’ہمیں ابھی تک کچھ نہیں ملا‘۔انھوں نے کہا کہ ایرانی جواب ’کسی بھی لمحے آ سکتا ہے‘ اور وہ ’کوئی پیشگوئی نہیں کریں گے۔‘’اس دوران ہماری کارروائی جاری ہے۔‘اس کے علاوہ روبیو نے کہا ہے کہ ’اس جنگ میں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے۔‘انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں ٹول وصولی کا نظام قائم کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے جو کہ ’ناقابل قبول‘ ہو گا۔انھوں نے کہا کہ پوری دنیا کو اس پر ’برہم ہونا چاہیے‘۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس اہم تجارتی راستے میں ممکنہ ٹول سسٹم سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کو ’کچھ کرنا چاہیے۔‘


