اسرائیلی حملوں کے پیش نظر پاکستانی لڑاکا طیاروں نے ایرانی وفد کو سیکورٹی حصار میں ایران واپس پہنچایا، خبر ایجنسی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ غیر حتمی امن مذاکرات کے بعد پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے ایرانی مذاکراتی وفد کو سیکورٹی حصار میں ایران واپس پہنچایا کیونکہ ایرانی حکام کو خدشہ تھا کہ اسرائیل انہیں نشانہ بنا سکتا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس آپریشن میں پاکستانی فضائیہ کے تقریباً 2 درجن جنگی طیارے اور ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (AWACS) طیارے شامل تھے جنہوں نے اسلام آباد سے واپسی کے دوران ایرانی وفد کو تحفظ فراہم کیا۔ خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ مستقبل میں بھی اگر ایرانی وفد درخواست کرے گا تو اسی نوعیت کی سکیورٹی فراہم کی جا سکتی ہے بصورت دیگر پاکستانی فضائیہ اپنی فضائی حدود میں ان کا استقبال کرے گی۔ خبررساں ایجنسی کے مطابق مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ایرانی وفد کو خدشہ تھا کہ حالات سازگار نہیں رہے اور انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس کے باعث سکیورٹی اقدامات کیے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ ایک بڑا آپریشن تھا جس میں طیاروں نے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ وفد کو ایران تک پہنچایا۔ رپورٹ کے مطابق اس مشن میں پاکستانی فضائیہ کے چینی ساختہ جے-10 سی طیارے بھی شامل تھے۔


