بلوچستان میں شاہراہوں کی مرمت پر 15 ارب روپے کے اخراجات آرہے ہیں، جی ایم این ایچ اے

کوئٹہ(یو این اے)نیشنل ہا ئی وے اتھارٹی (این ایچ اے)کے جنرل منیجر آغا عنا یت اللہ،ڈائریکٹر مینٹیننس راحیل احمد بلوچ نے کہا ہے کہ نیشنل ہا ئی وے اتھارٹی کی بلو چستان میں 4ہزار کلو میٹر سے زائد طویل قومی شاہراہیں ہیں جن کی سالانہ مر مت پر 15ارب روپے تک اخراجات آ رہی ہیں،ملک بھر سے سالانہ130ارب روپے کی ریونیو میں بلو چستان کا حصہ 20کروڑ روپے ہیں جس میں اضافہ کے لئے ہمیں چیمبرز اور بزنس کمیونٹی کے تعاون کی ضرورت ہیں،کچلاک سے براستہ اغبرگ و دیگر مستونگ تک با ئی پا س کے منصوبے پر ہیڈکوارٹر میں ورکنگ شروع ہو چکی، بلو چستان کی بزنس کمیونٹی این ایچ اے کی ریونیو میں اضافہ اور شاہراہوں کی حالت زار بہتر کر نے کے لئے ہما را ساتھ دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ بلو چستان کے عہدیداران و ممبران کے ساتھ منعقدہ سیشن سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔ اس سے قبل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ بلو چستان کے سنیئر نا ئب صدر حاجی اختر کا کڑ، ممبرا ن صلاح الدین خلجی، حاجی عبداللہ اچکزئی و دیگر کا کہنا تھا کہ ہم بلو چستان میں این ایچ اے کے جا ری منصوبوں کو خوش آئند سمجھتے ہیں البتہ بہتر حالت میں مو جو د شاہراہوں کو اکھیڑ نے پر بھی ہم تشویش کا اظہار کر تے ہیں بلو چستان کے زمینی حالات دیگر صوبوں سے یکسر مختلف ہیں اس لئے یہاں کی عوام اور بزنس کمیونٹی پر مزید بوجھ نہ ڈالا جا ئے، انہوں نے گزشتہ روز کو ئٹہ چمن شاہراہ پر زیر تعمیر حصہ پر گاڑی حادثہ کا بھی ذکر کیا اور مطا لبہ کیا کہ بلیلی کے قریب زیر تعمیر شاہراہ پر جا ری کا م کو جلد پا یہ تکمیل تک پہنچا یا جا ئے، انہوں نے کچلاک تا مستونگ براستہ اغبرگ با ئی پا س منصوبے پر تاخیر پر بھی تحفظات کیا اظہار کیا۔اس موقع پر نیشنل ہا ئی وے اتھارٹی(این ایچ اے)کے جنرل منیجر آغا عنا یت اللہ،ڈائریکٹر مینٹیننس راحیل احمد بلو چ کا کہنا تھا کہ کسی بھی منصو بے کی کا میابی کے لئے ضروری ہے کہ مقامی افراد اور بزنس کمیونٹی کی را ئے اور تجا ویز کوان میں فوقیت دی جا ئے،انہوں نے کہا کہ این ایچ اے کوشاہراہوں کی مرمت اورملازمین کی تنخواہوں کے لئے حکومت کو ئی فنڈ نہیں دیتی بلکہ این ایچ اے خود اپنی ریونیو سے شاہراہوں کی مر مت و دیگر اخرات پو ری کر تا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلو چستان میں 95فیصد بزنس این ایچ اے کی شاہراہوں کی مرہون منت ہیں ملک بھر سے این ایچ اے کو سالانہ 130ارب روپے کی ریونیو ملتی ہے تا ہم اس میں بلو چستان کا حصہ صرف 20کروڑ روپے ہیں جو ہمیں مختلف محکموں کے این او سیز اور ٹول پلا زوں سے مل رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ بلو چستان میں 4ہزار کلو میٹر سے زائد قومی شاہراہوں کی سالانہ مر مت کے لئے این ایچ اے کو 15ارب روپے درکا ر ہو تے ہیں جنہیں دوسرے صوبوں میں جمع شدہ ریونیو سے پورا کیا جا تاہے۔ انہوں نے کہا کہ بلو چستان میں قلعہ سیف اللہ، رکھنی،دالبندین،نو کنڈی،کوسٹل ہا ئی وے و دیگر میں ٹول پلا زے فعال کئے گئے ہیں جبکہ این او سیز اور را ئیٹ آف وے (ROW) چارجز سے ریونیو میں اضا فہ کے لئے کوشاں ہیں،انہوں نے کہا کہ ہیڈ کوارٹر سے بلو چستان میں ریونیو میں اضافہ پر زور دیا جا رہا ہے بلکہ کیسکو و دیگر کی طرز پر این ایچ اے کو بھی صوبے کے حوالے کر نے کی باتیں ہو رہی ہیں اگر ایسا ہوا تو ہم تو درکار فنڈز پورے نہیں کر پا ئیں گے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ چمن شاہراہ پر حادثہ والے پورشن با رے حکام با لا سے رابطہ کیا گیا ہے جنہوں نے ایک ہفتے کے دوران اس حصے پر کا م شروع کر نے کی یقین دہا نی کرا ئی گئی ہے،چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداران و ممبران کے سوال کے جواب میں آغا عنا یت کا کہنا تھا کہ کچلاک تا مستونگ با ئی پا س براستہ اغبرگ و دیگر کے منصوبے پر بھی ہیڈ کوارٹر میں کا م شروع ہو چکا ہے مذکو رہ منصوبے کا پی سی ون بنا یا جا چکا جبکہ ٹینڈرنگ و دیگر حوالے سے کا م جا ری ہیں،انہوں نے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیدران و ممبران پر زور دیا کہ وہ نیشنل ہا ئی ویز پر کا م کے لئے این او سیز لیں بلکہ اس سلسلے میں بزنس کمیونٹی کو بھی قائل کر نے کیلئے ان کا ساتھ دیں۔آخر میں ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ بلو چستان کی جا نب سے مہمان کو خصوصی شیلڈ پیش کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں