پولیس اہلکار کی جانب سے بیٹوں پر تشدد کا نوٹس لیکر کارروائی عمل میں لائی جائے، کوہلو کے رہائشی کی پریس کانفرنس
کوہلو (نامہ نگار) ضلع کوہلو میں محمد کریم ولد علی گل ٹینگیانی نے اپنے بھائیوں اور بچوں کے ہمراہ نیشنل پریس کلب کوہلو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولیس اہلکار اے ایس آئی حیردین ولد کمال ہان شاہجہ مری پر اپنے بیٹوں کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے، محمد کریم ٹینگیانی نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پہلے تحصیل گرسنی کے رہائشی تھے تاہم گزشتہ ایک سال سے شاہجہ آباد میں مقیم ہیں جہاں انہوں نے زمین بھی خرید رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے کلیر موڑ پر تعینات اے ایس آئی حیردین شاہجہ نے ان کے دو نوجوان بیٹوں کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک غریب شخص ہونے کے ناطے انہوں نے علاقے کے معتبرین اور عمائدین سے بھی اپیل کی کہ معاملے کو بلوچی رسم و رواج کے مطابق حل کیا جائے، تاہم اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی، محمد کریم کے مطابق گزشتہ روز بھی اے ایس آئی حیردین کی جانب سے انہیں مزید دھمکیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ دوبارہ انہیں اور ان کے بیٹوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک سرکاری ٹیچر ہیں اور اپنے گھر کے قریب واقع اسکول میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایم پی اے کوہلو نواب جنگیز خان مری کے سیاسی حامی ہیں اور ماضی میں بھی ان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں جبکہ آئندہ بھی ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ان کے بقول انہیں سیاسی بنیادوں پر علاقے سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، محمد کریم ٹینگیانی نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، ایم پی اے کوہلو نواب جنگیز خان مری، بریگیڈ کمانڈر کوہلو فاروق اشرف، ڈپٹی کمشنر کوہلو عظیم جان دمڑ، ایس پی کوہلو محمد طیب اقبال اور دیگر ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ حیردین کیخلاف شفاف تحقیقات کرکے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔


