کوہلو، تحصیل کاہان میں تعلیم اور بنیادی سہولیات کا فقدان، 50 سے زائد اسکول غیرفعال ہونے کا انکشاف، متعدد خاندان نقل مکانی پر مجبور
کوہلو (نامہ نگار) بلوچستان کے ضلع کوہلو کی تحصیل کاہان میں تعلیمی نظام اور بنیادی سہولیات کی ابتر صورتحال سے متعلق تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق تحصیل کاہان میں 50 سے زائد سرکاری اسکول غیرفعال ہیں، جبکہ علاقے کے مکین صحت، تعلیم، سڑکوں، پینے کے صاف پانی، موبائل نیٹ ورک اور دیگر بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں، مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سہولیات کے فقدان کے باعث عوام شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور متعدد خاندان بہتر زندگی کی تلاش میں علاقے سے نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں، مکینوں کے مطابق تقریباً ڈھائی لاکھ آبادی پر مشتمل تحصیل کاہان آج بھی بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہے، جہاں لوگوں کو روزمرہ زندگی کے معمولات چلانے میں بھی دشواریوں کا سامنا ہے، مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہریوں نے بتایا کہ علاقے میں مناسب طبی مراکز موجود نہیں، تعلیمی اداروں کی بڑی تعداد بند پڑی ہے، جبکہ موبائل نیٹ ورک کی عدم دستیابی کے باعث لوگ اپنے عزیز و اقارب سے رابطہ کرنے سے بھی قاصر ہیں، سڑکوں کی خستہ حالی کی وجہ سے مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے، جبکہ اسکولوں کی بندش نے سینکڑوں بچوں کے تعلیمی مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے، کاہان کے رہائشی عبدالعلی مری کے مطابق بند اسکولوں میں گورنمنٹ پرائمری اسکول بستی مولاداد، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول دامان، سیدا کچڑ، سخاری زرین، حبیب شیرانی، کاشی، کرپاسی، کلی سلامان، ریخ، جٹکی، مانک بند، گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول حبیب لانگھانی، گورنمنٹ ہائی اسکول کاہان، چپی کچ، ڈوئی وڈھ، کٹکی دف، سہروز، سہریں کہور، سیاہ بن، موضع ریخ وڈیرہ کریمو لانگھانی اور ولی کچ سمیت متعدد تعلیمی ادارے شامل ہیں، علاقہ مکینوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، رکن صوبائی اسمبلی جنگیز مری، نواب گزین مری اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل کاہان کو خصوصی ترقیاتی منصوبوں میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بند اسکولوں کو فوری فعال کیا جائے، صحت کی سہولیات بہتر بنائی جائیں، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور موبائل نیٹ ورک کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ کاہان کے عوام بھی ملک کے دیگر علاقوں کی طرح بنیادی سہولیات سے مستفید ہوسکیں۔


