گوادر، کنٹانی ہور سے چار پولیس اہلکار مبینہ طور پر گاڑی اور اسلحہ سمیت اغوا کرلیے گئے، پولیس ذرائع

گوادر، پسنی (نمائندہ انتخاب، نامہ نگار) گوادر تھانہ سنٹسر جیوانی کی حدود سے چار پولیس کانسٹیبلان مبینہ طور پر اغوا، تلاش اور بازیابی کی کارروائیاں جاری، اطلاعات کے مطابق گوادر تھانہ سنٹسر جیوانی کی حدود میں معمول کی گشت پر مامور چار پولیس کانسٹیبلان مبینہ طور پر نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں اغوا کر لیے گئے، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات اور اہلکاروں کی بازیابی کے لیے فوری کارروائی شروع کر دی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کنٹانی ہور ایریا کے انچارج نے رپورٹ کیا کہ کانسٹیبل نیاز احمد کانسٹیبل شعیب، کانسٹیبل احسان اور کانسٹیبل ساجد علی کنٹانی کے جادو گیٹ کے علاقے میں معمول کی گشت پر مامور تھے۔ دورانِ گشت اہلکاروں نے ایک زمباد گاڑی کو روکا، جس میں مبینہ طور پر تارکین وطن افغان باشندے سوار تھے۔ ایس ایس پی گوادر عطاالرحمان ترین کے مطابق مذکورہ پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر تارکین وطن افغان باشندوں کو حراست میں لیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اہلکاروں نے اس حوالے سے فوری طور پر انچارج کنٹانی، اے ایس آئی مصدق علی کو آگاہ کیا، جس پر انہیں ہدایت دی گئی کہ گاڑی اور اس میں موجود افراد کو قانونی کارروائی کے لیے تھانہ سنٹسر منتقل کیا جائے۔ پولیس کے مطابق بعد ازاں چاروں اہلکاروں سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ کچھ دیر بعد سوشل میڈیا پر ایک تصویر گردش کرنے لگی، جس سے ظاہر ہوا کہ مذکورہ پولیس اہلکار اپنی سرکاری گاڑی سمیت نامعلوم مسلح افراد کے قبضے میں ہیں اور انہیں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا ہے۔ دریں اثنا پولیس حکام نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اہلکار رشوت لینے میں ملوث تھے، تاہم ابتدائی معلومات کے مطابق پولیس کانسٹیبلان مبینہ تارکین وطن افغان باشندوں کو حراست میں لے کر متعلقہ تھانے منتقل کر رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں اغوا کرلیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی جیوانی کی نگرانی میں پولیس کی خصوصی ٹیمیں علاقے میں روانہ کر دی گئیں۔ پولیس حکام کے مطابق حقائق جاننے، ملزمان کی گرفتاری اور لاپتہ اہلکاروں کی محفوظ بازیابی کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں