ہم کابینہ کا حصہ ہیں وزیراعلیٰ کی پالیسیوں سے اختلاف نہیں کرسکتے، بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش نہیں، صوبے کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ دو سو آدمیوں کو روزانہ ملازمتیں دیں، صادق عمرانی
کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے سینئر صوبائی وزیر میر صادق عمرانی نے ایک سوشل پلیٹ فارم پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم وزیراعلیٰ کی پالیسیوں سے اختلافات تو نہیں کرسکتے، ہم کابینہ کا حصہ ہیں، جہاں تک میری اپنی ذاتی رائے ہے صوبے میں امن و امان کی صورتحال جو تسلی بخش ہونی چاہیے لوگ یہ محسوس کریں کہ صوبے کے ا ندر امن ہے، میں سمجھتا ہوں صوبے کے اندر امن و امان کی صورتحال غیر تسلی بخش ہے۔ ریاستی ادارے بھی چاہتے ہیں کہ امن و امان قائم ہو، ان کا امن و امان بحال رکھنے کیلئے اپنی حکمت عملی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے ایک ہی پیج پر ہوں اور ہر حال میں امن و امان بحال کرنے کیلئے دونوں ملکر کام کریں۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے مسائل حل ہوں، صوبے سے معدنیات نکالنی چاہیے اور اسے صوبے پر خرچ ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے یہاں پر قدرتی معدنیات ہیں اس پر یہاں کے لوگوں کی دسترس نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں دو سو آدمی روزگار لینے کیلئے آئے ہوئے ہیں کیا میں دو سو آدمیوں کو روزگار دے سکتا ہوں، یا صوبے کے اندر اتنے وسائل ہیں کہ ہم دو سو آدمیوں کو روزانہ ملازمتیں دیں۔ جن کو ملازمتیں دی ہیں 7 مہینے سے ان کو تنخواہ نہیں مل رہی، اس کیلئے بھی ہم لڑ رہے ہیں۔ میں یہی مشورہ دوں گا کہ حکومت اور مسلح قوتیں طاقت کا مظاہرہ نہ کریں، مذاکرات کریں، مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں، مذاکرات سے ہی امن قائم ہوسکتا ہے، مذاکرات کے ذریعے بیروزگاری کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔


