بلوچستان ہائیکورٹ میں ایسے شخص کو جج کے لیے نامزد کیا گیا ہے جو گزشتہ 18 برس سے سرکاری ملازمت کر رہا تھا، بار کونسل
کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان بار کونسل نے بلوچستان ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتی کے عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بار کونسل کو اس عمل سے مکمل طور پر الگ رکھا گیا ہے، جبکہ ایسے شخص کو جج کے لیے نامزد کیا گیا ہے جو گزشتہ 18 برس سے سرکاری ملازمت کر رہا تھا۔ بار کونسل نے اعلان کیا ہے کہ اس کے احتجاج کے طور پر پیر کے روز بلوچستان بھر کے وکلائ عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔ہفتہ کوکوئٹہ میں بلوچستان بار کونسل کے رہنماو¿ں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چیئرمین بلوچستان بار کونسل جاڑین بلوچ نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس سے تین نام طلب کیے گئے تھے، تاہم اس پورے عمل میں بلوچستان بار کونسل کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ججز کے لیے ایسے وکیل کا نام دیا گیا جو گزشتہ 18 سال سے لیبر ڈیپارٹمنٹ میں خدمات انجام دے رہا تھا، جو وکلاء برادری کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وکلاء کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے اور 18 سال سرکاری ملازمت کرنے والے شخص کو جج کے لیے نامزد کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ پاکستان بار کونسل کے رکن منیر احمد کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں ججز کی 15 نشستیں ہیں، مگر ہائیکورٹس میں ڈمی کردار بٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں ایسے افراد کو مسلط نہ کیا جائے جو کسی اور کے اشاروں پر چلتے ہوں، کیونکہ اب عدلیہ میں بھی کٹھ پتلی افراد کو بٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان بار کونسل اور وکلاءکو دیوار سے کیوں لگایا جا رہا ہے۔اس موقع پر ایاز خان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کے وکلا کے مینڈیٹ کے ساتھ مذاق نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس ریاست میں عدلیہ آزاد نہ ہو، وہاں عوام کی انصاف سے وابستہ توقعات بھی متاثر ہوتی ہیں۔جاڑین بلوچ نے اعلان کیا کہ بلوچستان بار کونسل کی اپیل پر پیر کے روز بلوچستان بھر کے وکلا احتجاجاً عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔


