لاپتا افراد خضدار، مستونگ اور دیگر علاقوں میں دہشتگردی میں ملوث پائے گئے، سردار کہتے ہیں کہ غریب کا بچہ آگے نہ بڑھے، ہم بلوچستان کے لوگوں سے بات کریں گے، دہشتگرد یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈالیں یا پھر ہم ان سے لڑیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر
لاپتا افراد خضدار، مستونگ اور دیگر علاقوں میں دہشتگردی میں ملوث پائے گئے، سردار کہتے ہیں کہ غریب کا بچہ آگے نہ بڑھے، ہم بلوچستان کے لوگوں سے بات کریں گے، دہشتگرد یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈالیں یا پھر ہم ان سے لڑیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی (پ ر) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ رواں سال ملک بھر میں 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے۔ بلوچستان میں 31 ہزار سے زائد انٹیلی بیسڈ آپریشن کیے گئے۔ کے پی کے میں 7 ہزار 171 انٹیلی بیسڈ آپریشن کیے گئے۔ روزانہ کی بنیاد پر 194 انٹیلی بیسڈ آپریشن ہورہے ہیں۔ اس سال 2084 دہشتگرد مارے گئے۔ دہشتگردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دہشتگرد یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈالیں یا پھر ہم ان سے لڑیں گے۔ جان بوجھ کر یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان کے حالات خراب ہیں۔ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر ملوث ہیں۔ بھارت اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈہ دہشتگردی ہے۔ معرکہ حق میں دشمن کی حکمت عملی ناکام ہونے پر بلوچستان پر نظریں جمائی گئیں۔ بلوچستان کے عوام ہی وہاں کے اصل اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ لاپتا افراد کا پروپیگینڈہ ناکام ہوگیا ہے۔ لاپتا افراد خضدار، مستونگ اور دیگر علاقوں میں دہشتگردی میں ملوث پائے گئے۔ آج ہمیں بلوچستان کے بنیادی ایشو تک پہنچنا ہے۔ سردار کہتے ہیں کہ غریب کا بچہ آگے نہ بڑھے۔ ہم تم سے بات نہیں کریں گے ہم بلوچستان کے لوگوں سے بات کریں گے۔ کیا ہر شہری پر فرض نہیں کہ ہماری پہلی اور آخری شناخت پاکستانی ہے۔ ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جان ہے۔


