اسما جتک کے والد کا قتل قابل مذمت ہے،قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، بی ایس او
خضدار(نیوز ڈیسک )بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اسما جتک کے والد کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں کٹھ پتلی حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اسما جتک کی جانب سے اپنی اور اپنے خاندان کو مبینہ طور پر ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے ظہور جمالزئی سے لاحق خطرات پر ویڈیو بیان جاری کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد ان کے والد کا قتل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان میں خوف اور جبر کا ماحول مسلسل گہرا کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی خاموشی اس صورتحال پر سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اسما جتک کو چند سال قبل خضدار سے مبینہ طور پر مقامی ڈیتھ اسکواڈ نے اغوا کیا، اور اس واقعے کے بعد انصاف کا مطالبہ کرنے والے متعدد افراد ایک ایک کرکے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آج بھی اسما جتک اور ان کے اہلِ خانہ کو مسلسل دھمکیوں کا سامنا ہے، جبکہ تحفظ فراہم کرنے کے بجائے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ بی ایس او کا مو¿قف ہے کہ بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈز کو حاصل سرپرستی نے شہریوں کے بنیادی حقوق کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور ایسے واقعات نے عوام کے اعتماد کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ اسما جتک کے والد کے قتل کی آزاد، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کرائی جائیں، اسما جتک اور ان کے خاندان کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے، اور بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈز کے کردار اور ان سے متعلق تمام الزامات کی مو¿ثر تحقیقات کی جائیں۔ ترجمان نے کہا کہ جبر، دھونس اور خونریزی سے عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، اور بی ایس او انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔


