وزیراعلیٰ کی یقین دہانی کے بعد فی الحال جاری احتجاجی ہڑتال اور سامان کی ترسیل کی معطلی کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان

کوئٹہ(این این آئی)مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آج وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ و پارلیمانی سیکرٹری میر لیاقت لہڑی کی سربراہی میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ، گڈز و ٹرانسپورٹ یونینز کے نمائندوں میر دولت لہڑی، میر نواب مینگل، میر یاسین مینگل ،نور احمد کاکڑ ،ابرھیم نچاری،داد اللہ آغا،نوراللہ،حاجی خلیل احمد اور دیگر نمائندوں نے ملاقات کی، جس میں بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر بدامنی، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو درپیش سنگین خطرات، مال بردار گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے، لوٹ مار، بھتہ خوری اور اغواءجیسے واقعات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ وفد نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو آگاہ کیا کہ کوئٹہ۔کراچی، کوئٹہ۔تفتان، کوئٹہ۔ڑوب اور دیگر قومی شاہراہیں عرصہ دراز سے غیر محفوظ ہیں۔ آئے روز تاجروں کے مال بردار ٹرکوں کو جلایا جا رہا ہے، سامان لوٹا جا رہا ہے، بھتہ وصول کیا جا رہا ہے اور ڈرائیوروں کی جانیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ یہ تمام واقعات اس وقت ہو رہے ہیں جب شاہراہوں پر مختلف سیکیورٹی اداروں کی متعدد چیک پوسٹیں موجود ہیں، اس کے باوجود تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو تحفظ فراہم نہ کیا جانا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔بیان میں کہا گیا کہ اس بدامنی کے باعث بلوچستان کے مختلف اضلاع میں آٹا، چینی، گھی، دالیں، ادویات اور دیگر اشیائے خوردونوش کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے، جس سے کئی علاقوں میں قلت پیدا ہونے اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب کوئٹہ کے تاجروں کو بھی کروڑوں روپے کے مالی نقصانات کا سامنا ہے کیونکہ ان کا سامان راستے میں لوٹا یا جلایا جا رہا ہے، جبکہ بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ تاجر اور عام صارف برداشت کر رہے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے شروع دن سے قومی شاہراہوں پر امن و امان کے قیام، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کے تحفظ کے لیے ہونے والے تمام احتجاجی مظاہروں، شٹر ڈاو¿ن ہڑتالوں اور پہیہ جام ہڑتالوں کی بھرپور حمایت کی ہے، کیونکہ یہ احتجاج کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ بلوچستان کے تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور عام عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔بیان کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وفد کے تمام تحفظات کو سننے کے بعد یقین دہانی کرائی کہ جلد ہی سیکیورٹی اداروں، ضلعی انتظامیہ، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان، ٹرانسپورٹ تنظیموں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا، جس میں قومی شاہراہوں پر امن و امان کی بحالی، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو مو¿ثر تحفظ فراہم کرنے اور ان کے مسائل کے مستقل حل کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔مرکزی انجمن تاجران بلوچستان، آل بلوچستان پرچون گڈز ایسوسی ایشن، آل پاکستان مزدا ٹرک ایسوسی ایشن، بس کارگو ایسوسی ایشن، بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن اور کراچی گڈز کیریئرز ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی یقین دہانی کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے فی الحال جاری احتجاجی ہڑتال اور سامان کی ترسیل کی معطلی کو مو¿خر کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ حکومت کو اپنے وعدوں پر عمل درآمد کا موقع دیا جا سکے۔بیان کے آخر میں واضح کیا گیا کہ اگر حکومت نے اپنی یقین دہانیوں پر عملی اقدامات نہ کیے، قومی شاہراہوں پر تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور عام شہریوں کو تحفظ فراہم نہ کیا اور مال بردار گاڑیوں کو جلانے، لوٹنے اور بھتہ خوری کے واقعات کا سدباب نہ کیا گیا تو مرکزی انجمن تاجران بلوچستان، تمام ٹرانسپورٹ تنظیموں کے ساتھ مل کر دوبارہ غیر معینہ مدت کی شٹر ڈاو¿ن ہڑتال، پہیہ جام ہڑتال اور سخت احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں