چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کے وسیع اختیارات دینے کا بِل قومی اسمبلی نے منظورکرلیا، اپوزیشن کا واک آ وٹ
قومی اسمبلی نے ’ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026‘ اور ’نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ‘ میں ترمیم کے بِل کو کثرتِ رائے سے منظور کرلیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے دونوں بِل ایوان میں پیش کیے جب کہ اپوزیشن نے بات چیت کا موقع نہ ملنے پر ایوان سے واک آؤٹ کیا۔جمعرات کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈیفنس فورسز ایکٹ ترمیمی بل 2026 کی شق وار منظوری لی گئی، جسے ایوان نے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔اس بِل کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کو قانونی بنیاد فراہم کی گئی ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز کے نام سے مسلح افواج کا مرکزی ہیڈکوارٹر قائم کیا جائے گا جس کے سربراہ چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے۔مجوزہ قانون کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف کو چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے اختیارات حاصل ہوں گے جب کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی کمانڈ اور کنٹرول سے متعلق اختیارات دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔مجوزہ ترمیم کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو قومی سلامتی اور مسلح افواج سے متعلق امور میں وزیراعظم کو مشورہ دینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ انہیں مسلح افواج کی تنظیم سے متعلق وسیع اختیارات حاصل ہوں گے جس میں اہم فوجی امور میں ضروری اقدامات کرنے کا اختیار بھی شامل ہے۔بل میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات اور فرائض کا باقاعدہ تعین کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جس کے تحت ’سی ڈی ایف‘ کو قانون کے تحت تفویض کردہ اختیارات استعمال کرنے کا اختیار ہوگا جب کہ انہیں وزیراعظم کی منظوری سے اضافی اختیارات بھی تفویض کیے جا سکیں گے۔مجوزہ قانون کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو تفویض کردہ اختیارات کے استعمال کے لیے حکومتی منظوری کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا جب کہ انہیں بعض اختیارات براہِ راست استعمال کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔‘ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026‘ میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو قواعد و ضوابط وضع کرنے اور ہدایات و احکامات جاری کرنے کا اختیار دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مجوزہ قانون سے متعلق کسی ابہام کی صورت میں صدرِ مملکت کے حکم کو حتمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔بِل میں پاکستان ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کو فوری طور پر نافذ کرنے کے علاوہ ایکٹ سے قبل جاری کیے گئے احکامات، ہدایات اور اعلانات کو بھی برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔


