اردن میں امریکی اڈے پر حملہ ایران کی فوجی حکمت عملی میں ’جارحانہ‘ تبدیلی کا حصہ ہے، ایرانی فوجی ترجمان
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ’ملک کی فوجی حکمتِ عملی دفاعی سے جارحانہ انداز میں تبدیل ہو گئی ہے اور حالیہ جنگ کے دوران اس تبدیلی کا اظہار ’تیز اور وسیع ردِعمل‘ اور ’پیشگی کارروائیوں‘ کی صورت میں ہوا۔‘ ’اس جنگ کے دوران اردن میں امریکی اڈے پر حملے کے ایک موقع پر ہم نے دراصل پیشگی کارروائی کی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا۔ دشمن کے جنگ میں داخل ہونے سے پہلے ہی ہم نے اردن میں اس کے اڈے کو نشانہ بنایا۔‘رواں سال جولائی میں 17 جولائی کو اردن میں ایک امریکی اڈے پر ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ ’یہ جارحانہ فوجی نظریے کا ایک پہلو ہے، تاہم اس کے دیگر پہلو بھی ہیں۔ ان میں یہ شامل ہے کہ جارحیت کی کسی بھی کارروائی کا فوری طور پر جواب دیا جائے گا اور یہ جواب یقینی طور پر جارحیت سے زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔‘اس سے قبل ایرانی فوج کے خاتم الانبیاءسینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ا±س وقت کے کمانڈر علی عبداللہی نے بھی کہا تھا کہ ’مسلح افواج کی فوجی حکمتِ عملی دفاعی سے جارحانہ ہو گئی ہے۔‘تاہم حالیہ دنوں میں ایرانی فوجی حکام نے ایک بار پھر اس حکمتِ عملی میں تبدیلی پر زور دیا ہے۔


