خضدار کے تمام تعلیمی اداروں کو فعال کرنے کی کوشش کی جائیگی، رحمت اللہ بزنجو

خضدار (نمائندہ خصوصی)بلوچستان نیشنل پارٹی نال کے سابق ڈپٹی سیکرٹری رحمت اللہ بزنجو نے نال کے نان فنکشنل تعلیمی اداروں کو فعال کرانے کے حوالے سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر شفیق الرحمان ساسولی سے ملاقات کی، انہوں نے کہاکہ خواہش ہیکہ نئے تعلیمی سال کے شروع ہوتے ہی نال کے تمام اسکولز فنکشنل رہیں۔ شفیق الرحمان ساسولی نے انہیں یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ نال سمیت خضدار بھر کے تعلیمی اداروں کو فعال کرنے کیلئے آفیسران سے رابطے میں ہیں، کوشش کیجائیگی کہ ڈسٹرکٹ کے تمام اسکولزفنکشنل رہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے معاشرے کے ہر فرد کی اب یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ طلبا و طالبات کے سکولوں میں داخلے کو بھی یقینی بنائیں کیونکہ اس میں ہماری بقا اور ترقی پوشیدہ ہے۔درایں اثناء ضلعی لیبرسیکرٹری علی احمدشاہوانی، سابق ضلعی لیبرسیکرٹری حاجی منیراحمدرند اور بی این پی ہڑنبو بزنجو یونٹ کے رکن نصیراحمد بزنجو موجودتھے۔ انہوں نے تعلیم کے متعلق بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ تعلیم کی اہمیت سے انکار کسی طور بھی ممکن نہیں ہے، تعلیم سے قوموں میں ویژن، قوت اور شعور آتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں تعلیم یافتہ ہوتی ہیں ان کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ طلبہ و طالبات قوموں کی ترقی میں پیش پیش ہوتے ہیں اور ہمیشہ صف اول کا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ قوموں کا اثاثہ، مستقبل ہوتے ہیں ان کی تعلیم و تربیت کیلئے ہمیں بے مثال اقدامات اٹھانے ہونگے، بچوں کو تعلیم کی غرض سے تعلیمی اداروں میں لانے کیلئے موثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ بچوں کے سکولوں میں داخلے کو یقینی بنانے کیلئے محنت، عزم اور جذبے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ معیاری تعلیم ہر بچے کا حق ہے اور ہمیں اسے یہ حق ضرور دیناچاہیئے، بی این پی قوم کی بیٹوں، بیٹیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے حتی الامکان کوشش کررہی ہے۔ اشرافیہ کے بچوں کیلئے بہترین تعلیم جبکہ بے سہارا بچوں کیلئے تعلیمی سہولیات کے فقدان سے انہیں تکلیف پہنچتی ہے، ہمیں اس ذہنیت، کلچر اور نظام کو بدلناہوگا۔ خدارا آئیے! مل کر امیرو غریب کے درمیان خلیج کو ختم کریں، فرق کو مٹائیں، اپنے دکھوں کو خوشیوں میں بدلیں، بلوچستان ہمارا ہے، ہمیں مل کر اسے سنوارنا ہے، اور اسے عظیم سے عظیم تر بنانا ہے۔ ہم نے خضدار کو تعلیمی میدان میں ایسی مثال بنانا ہوگا جہاں ہر طالب علم کو بلا رکاوٹ علم کے روشن دریچوں تک رسائی ممکن ہو، درسگاہیں علم و تحقیق کی آماجگاہ بنیں، ہمیں اپنے مخلص و محنتی اساتذہ کو رول ماڈل بنانا ہوگا تاکہ ہمارا معیارِ زندگی بلند ہو سکے۔انہوں نے کہاکہ امتحانی نظام میں اصلاحات سے ہی تعلیمی نظام شفاف بن سکتا ہے۔ امتحانی سنٹروں کی منظم نگرانی کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے غریب اور لوئر طبقہ کے طلبا و طالبات بھی بورڈز اور یونیورسٹیوں میں امتیازی پوزیشنیں لے سکے۔ بلاشبہ ان تمام تر اقدامات کا صوبائی حکومت کواٹھاناہے۔ مگر وہ خوابِ غفلت میں ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ انقلابی اوربے مثال اقدامات سے ہی ہمارا معیار تعلیم بہتری کی طرف گامزن ہوسکتاہے۔
ہمارے طلبا و طالبات میں ذہانت کی کمی نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں مواقع فراہم کئے جائیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ انہیں مواقع فراہم کردے اور وہ بغیر کسی دباﺅ اور اپروچ کے تعلیمی میدان میں آگے آسکیں۔ ہمارے معاشرے کے ہر فرد کی اب یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ طلبا و طالبات کے سکولوں میں داخلے کو بھی یقینی بنائیں کیونکہ اس میں ہماری بقا اور ترقی پوشیدہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں