لاپتہ افراد کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی، اگر کوئی شخص مجرم ہے تو عدالت میں کارروائی کی جائے، جماعت اسلامی

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن،جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری ہدایت الرحمان بلوچ نے کراچی پریس کلب پر لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے لگائے گئے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، لاپتا افراد کے اہل خانہ سے ملاقات اور بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کے وائس چیئر مین ماما قدیربلوچ و دیگر سے ملاقات بھی کی۔حافظ نعیم الرحمن، جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سکریٹری ہدایت الرحمن،ماماقدیر نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو بھی کی۔ اس موقع پر نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن،ہدایت الرحمان بلوچ نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان سمیت ملک کے تمام علاقوں کے لاپتا افراد کو فی الفور بازیاب کرایا جائے، بلوچ عوام پاکستان کے شہری ہیں ان کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ماضی میں حکمرانوں کی بے حسی اور لاپرواہی کی وجہ سے لاپتا افراد کو بازیاب نہیں کروایا جاسکا۔ موجودہ حکومت اسلامی ریاست کے دعوے کرتی ہے اس کی ذمہ داری ہے کہ لاپتا افراد کو بازیاب کروانے میں اپنا بھرپورکردار اداکرے۔پاکستان ایک آئینی ودستوری ریاست ہے،آئینی طور پر کسی بھی ادارے کو یہ حق حاصل نہیں کہ آئین وقانون سے ماورا کسی بھی شہری کو گرفتار کرے۔ اگر کوئی فرد کسی جرم میں شریک ہے تو عدالتوں کے ذریعے کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عدالتوں کے فیصلوں پر عمل نہیں کیا جارہا۔ عدالتوں کے کام اگر ادارے کریں گے تو نفرتیں پروان چڑھنے کا خدشہ ہوگا۔ اگر ریاست اسی طرح شہریوں کو گرفتار کرے گی تو ملک میں اتحاد و یکجہتی کس طرح ممکن ہوپائے گی۔ جماعت اسلامی نے ماضی میں لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے ہمیشہ جدوجہدکی ہے، آئندہ بھی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اسلام آباد میں بھی لاپتا افراد کے حوالے سے لگائے گئے کیمپ پر سراج الحق نے دورہ کیا اور اظہاریکجہتی کیا۔ بدقسمتی سے ملک میں دوہرا معیار ہے۔ راو انوار پر سینکڑوں افراد کے قتل کا الزام ہے لیکن وہ آزادانہ اور شاہانہ زندگی گزاررہا ہے۔ دوسری جانب ہمارے بے گناہ بچوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ ہم لاپتا افراد کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ان سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ہم جماعت اسلامی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا اور جدوجہد میں ساتھ رہے۔ اگر ہمارے بچے کسی جرم میں ملوث ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ پچاس ہزار سے زائد افراد کو بغیر کسی جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ہم محب وطن پاکستانی ہیں، ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سن 2000 سے اب تک80 ہزارسے افراد لاپتا ہیں۔ لاپتا افراد کی ایف آئی آر بھی نہیں درج کی جارہی۔ لاپتا افراد کے لواحقین وپسماندگان کو پریشان کیا جارہا ہے۔ بلوچ کمیونٹی سے وابستہ افراد کو بلوچستان اور کراچی کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا جارہا ہے۔ بلوچ کمیونٹی کو نشانہ بنایا جارہا ہے، بلوچ بھی پاکستانی شہری ہیں #

اپنا تبصرہ بھیجیں