بلوچستان میں عد م تحفظ کا شکار، دوسرے صوبوں میں اپنا روزگار تلاش کریں گے، ٹرانسپورٹرز

کوئٹہ (آن لائن)آل بلوچستان گڈز ٹرک ٹرانسپورٹ کمپنیز ایسوسی ایشن رجسٹر ڈ کے صدر نور احمد کاکڑ نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مال بردار ٹرکوںپر فائرنگ جلانے اور ڈرائیوں کو زخمی کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے 10 جون تک متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی یقینی نہ بنائی گئی کوئٹہ تفتان قومی شاہراہ پر کارگو سپلائی نہیں کریں گے اگر ہمارے مسائل حل نہ کئے گئے تو ہم باہمی مشاورت سے احتجاجی لائحہ عمل اپناتے ہوئے احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر بشیر احمد حلیمی، حاجی ملک شاہ جمالدینی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مال بردار ٹرکوں کو جلانا فائرنگ کرکے ڈرائیوروں کو زخمی کیا جارہا ہے عید سے قبل لورالائی، ہرنائی روڈ پر اسی طرح کوئٹہ تفتان شاہراہ پر واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں بڑھتی ہوئی لاقانونیت کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز عدم تحفظ کا شکار ہے حکومت اور انتظامیہ ان کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام نظر آرہی ہے اس لئے ہم بلوچستان میں کارگو سروس بند کرکے ملک کے دوسرے صوبوں میں اپنا روزگار تلاش کریں گے انہوں نے کہا کہ ٹرکوں کو پہنچنے والے نقصان اور ڈرائیوروں کو زخمی کرنے پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جارہی نہ ہی متاثرین کو تحفظ اور ان کے نقصانات کا معاوضہ دیا جارہا ہے جس کی وجہ سے اب ہم ٹرک کو کلیم دینے کی گارنٹی کے بغیر کارگو سروس جاری نہیں رکھیں گے تفتان روٹ کے علاوہ باقی تمام علاقوں سے لوڈنگ ان لوڈنگ جاری ہے اگر حکومت نے دس جون تک کلیم کی ادائیگی نہ کی تو ہم سپلائی بند کرکے احتجاجی لائحہ عمل اپنائیں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں