سینیٹ انتخابات،بلوچستان اسمبلی میں موجود جماعتیں ووٹ عثمان کاکڑ کو دے کر کامیاب کرائیں، اسرار اللہ زہری

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے سربراہ میر اسرار اللہ زہری نے کہا ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں موجود جماعتیں ایک ایک ووٹ عثمان کاکڑ کو دے کر کامیاب کرائیں تو وہ ایوان بالا میں بلوچستان کی بہترین نمائندگی کر سکتے ہیں بلوچستان کو سیاسی طور پر بدحال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے نظریاتی شخص کبھی بھی ووٹ فروخت نہیں کرے گا سردار اخترجان مینگل کے ووٹ شکریہ اور احترام کیساتھ واپس کئے ہیں جام کمال کی پارٹی کے خواہش مند زیادہ ہیں بلکہ ان کے پاس پیراشوٹرز بھی موجود ہیں سینٹ الیکشن کو سیاست کے بجائے کاروبار بنا دیاگیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک انٹرویو میں کیا میر اسرار اللہ زہری نے کہا کہ بدقسمتی سے اس بار سینٹ الیکشن میں جوڑ توڑ نہیں بلکہ گٹھ جوڑ یا پھر سیاست کے بجائے کاروبار ہو رہا ہے اگر دونوں کو مکس کیا جائے تو اس کی تیسری جنس بنے گی جس کی وجہ سے ہم پھنسے ہوئے ہیں بلوچستان کا سیاسی حوالے سے اپنی ایک اخلاقی و قبائلی روایات ہیں جو صدیوں سے چلی آرہی ہیں سردار اختر جان مینگل اسی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے پاس آئے ہمارے 2ووٹ آپ کو دیں گے کیونکہ اس قبل ہم نے بی این پی کو سینٹ الیکشن میں ووٹ دیئے تھے لیکن جب میں نے دیکھا تو ہمارا اتحاد مقدس باپ سے تھا اور وزیراعلیٰ بلوچستان جا م کمال سے اس حوالے سے رابطہ کیا تو انہوں نے مہلت مانگی لیکن بعد میں جام صاحب نے کہا کہ ہمارے کچھ نہیں اگر آپ کے پاس کچھ ہے تو ہمیں دے دیں جس پارٹی سے ہمیں امید تھی اس کے اپنے خواہش مند زیادہ ہیں جن میں پیراشوٹربھی موجود ہیں نے سردار اخترجان مینگل کے ووٹ شکریہ اور احترام کے ساتھ واپس کر دیئے ہیں انہوں نے تجویز دی کہ بلوچستان اسمبلی میں موجود جماعتیں اگر ایک ایک ووٹ عثمان کاکڑ کو دیں تو وہ ایوان بالا میں بلوچستان کی بہتر نمائندگی کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ سینٹ الیکشن سے متعلق فی وو ٹ پانچ سے چھ کروڑ روپے بتائے جارہے ہیں لیکن میں کنفرم نہیں ہوں اور نہ ہی میرے پاس اتنے پیسے ہیں اگر پیسے ہوتے تو بھی اپنے سیاسی اور اخلاقی اقدار کے سامنے کچھ نہیں کرسکتا تھا بلوچستان دیگر حوالوں سے پسماندہ لیکن سیاسی طور پر خوشحال تھا مگر اب ووٹوں کی خرید و فروخت کے ذریعے سیاسی طور پر بھی سیاسی طور پر پسماندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ سیاسی اور نظریاتی کارکن کبھی بھی ووٹ فروخت نہیں کرے گا تاہم کسی کو یہ یقین ہو کہ وہ اگلی دفعہ الیکشن نہیں لڑسکتا یا نہیں جیت سکتا تو وہ پیسے لیکر ووٹ فروخت کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں