کرونا کے باوجود الجزائر میں حکومت کے خلاف احتجاج
الجیریا:حِراک کے نام سے معروف جمہوریت نواز تحریک کے حامی سیاسی نظام کے خلاف ایک بار پھر سڑکوں پر اتر آئے۔ ایک دن قبل ہی صدر عبدالمجید تبون نے اصلاحات کا وعدہ کیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے عائد بندشوں کے باوجود ہزاروں مظاہرین حکومت کے خلاف طلبہ کی قیادت والے مظاہروں میں شرکت کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔یہ زبردست مظاہرہ گزشتہ دنوں ہونے والے مظاہروں کے بعد الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون کی طرف سے سیاسی اصلاحات کا آغاز کرنے کے وعدوں کے ایک دن بعد ہوا۔مظاہرین الجزائر کے موجودہ سیاسی نظام کو تحلیل کرنے اور فوج کو حاصل اختیارات کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔مظاہرے میں دو ہزار سے زائد افراد شریک تھے۔مظاہرین نے پولیس کی طرف سے لگائی گئی رکاوٹوں سے بچنے کے لیے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل قصبہ علاقے کے ارد گر واقع تنگ گلیوں میں مارچ کیا۔عینی شاہدین نے تبایا کہ جب سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی تو دونوں میں معمولی جھڑپ بھی ہوئی۔پولیس نے مبینہ طور پر مظاہرین کو مین پوسٹ آفس کے پاس پہنچنے سے روک دیا۔ کورونا وائرس کی وبا شروع ہونے سے قبل حِراک کے مظاہرین بالعموم اسی جگہ پر یکجا ہوا کرتے تھے۔صدر تبون نے مظاہرین کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے آئندہ پارلیمانی انتخابات کے مدنظر حکومت میں ایک بڑی تبدیلی کا وعدہ کیا۔تبون نے اپنی حکومت میں وزارتوں میں حالیہ تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے نئے وزرا کی تقرری کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ میں نے حراک سے وابستہ رہ چکے نوجوان وزیروں اور پانچ وزیروں کی تقرری بھی کی ہے اور ان کے کام کاج کے نتائج زمینی سطح پر نظر بھی آنے لگے ہیں۔صدر تبون کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے مظاہرین کے بیشتر مطالبات پورے کردیے ہیں۔


