حکومت آئی ایم ایف سے قرضے لیکر پیسے تنخواہوں میں لگادیتی ہے چیف جسٹس
اسلام آباد :سپریم کورٹ نے خیبرپختونخواہ کے رہائشی سید صادق شاہ کی پرموشن الاؤنس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔پشاور ہائیکورٹ نے دیگر صوبوں کی طرح کے پی کے میں بھی پرموشن الانس بڑھانے کا حکم دیا تھا۔جمعرات کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ہائیکورٹ کو اختیار نہیں کہ وہ تنخواہیں یا الاؤنس بڑھانے کا کوئی حکم دے۔چیف جسٹس نے کہاکہ الاؤنس حکومت طے کرتی ہے عدالتیں نہیں، گورنمنٹ کے پھڈے والے معاملوں میں ہم مداخلت نہیں کرتے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیار حاصل ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ یہ سپریم کورٹ کا کام نہیں کہ وہ دیکھے کون کیا کر رہا ہے کیا نہیں۔اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے کہاکہ کے پی کے گورنمنٹ کے پاس بجٹ کم ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ حکومت پیسے آئی ایم ایف سے قرضے لے کر تنخواہوں میں لگا دیتی ہے،حکومت کے پاس کوئی کام کرنے کیلئے پیسے نہیں ہوتے۔انہوں نے کہاکہ کے پی کے میں سارا ایشین ڈیولپمنٹ بینک کا پیسہ ہے، کے پی کے حکومت سے پوچھ لیں کتنا پیسہ تنخواہوں میں بانٹا ہے۔


