انتہائی قابل لوگ پیسوں کے بل بوتے پر آنے والے جاہلوں کے زیر سایہ کام کرینگے، جہانزیب جمالدینی

کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل وسینیٹرڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہاہے کہ سینیٹ فیڈریشن کی علامت،اختیارات محدود کرنے کی بجائے ان میں اضافہ سے فیڈریشن مضبوط ہوگا، پنجاب کے حکمرانوں کی غلطیوں نے ملک کی بنیادیں کھوکھلی کردیں،ان غلطیوں پر نادم ہوکر انہیں تسلیم کرنے کی ضرورت ہے،پارلیمنٹ میں غریب کو مزید تباہ کرنے کیلئے قوانین بنائے جاتے ہیں،بلوچستان سے کنٹرولڈ ڈیموکریسی کاایوان بالا تک پہنچنے کیلئے 70کروڑ روپے سے ایک ارب روپے تک خرچہ آیاہے،انتہائی قابل لوگ پیسوں کے بل بوتے پر آنے والے جاہلوں کے زیر سایہ کام کرینگے،ملکی اقتصادی حالت کمزور ہے،بلوچستان میں قلات سے نکلنے والی گیس سے سندھ اور پنجاب کے کارخانے چلیں تو بلوچستان میں نفرت مزید بڑھے گی،ہمیں تسلیوں اور مظلوم ہونے کا طعنہ دینے کی بجائے ہمیں ہمارا حق دیاجائے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایوان بالا میں الوداعی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹرجہانزیب جمالدینی نے کہاکہ ایوان بالا بحث ومباحثہ کیلئے ہے جس کیلئے تمام ارکان میں برداشت تھی اورہونی چاہئیں،ملک میں بہت سے نشیب وبراست آتے رہے ہماری غلطیوں سے بنگلہ دیش الگ ہوا جس کا بنیادی وجہ آئین پاکستان پرعملدرآمد نہ ہونا تھا یہ ہماری کمزورپہلوؤں تھے جنہیں جھٹلایانہیں جا سکتا،جمہوریت پر قدغن لگایاجائے گا،آئین پاکستان کی بجائے پستائی حکمران مسلط یا ڈکٹیٹوریل سسٹم مسلط کیاجائے تو وطن عزیز کے ساتھ انصاف نہیں کیاجاسکے گا،ہمیں اپنے غلطیوں پر نادم ہوناچاہیے انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں سیاستدانوں کو تو کہاجاتاہے کہ آپ توبہ بھی کرے،ندامت کااظہار بھی کرے لیکن ہم بھی تو کرنے سے رہے،ملک میں مداخلت جرم اور ملکی بنیادیں ہلانے کے متراد ف ہے،ایوان بالا کی اختیارات اس حدتک محدود کرچکے ہیں کہ اختیارات ایوان بالا کی بجائے اپرہاؤس کے پاس ہے،سینیٹ فیڈریشن کی علامت ہے جس کے پاس مالی اور قانونی اختیارات ہونے چاہئیں جو آج تک نہیں دئیے گئے،انہوں نے کہاکہ مشرقی پاکستان ہمارا حصہ تو کھلم کھلا کہاجاتاتھا کہ رقبے کے لحاظ سے وسائل تقسیم ہواور رقبے کے لحاظ سے ہی وسائل کی تقسیم تھی ون یونٹ بنایا گیا یہ تلخ حقائق ہے لوگ اس پرعملدرآمد تو دور سننا بھی نہیں چاہئیں گے ہمیں بلوچستان کے ساتھ پنجاب سے بھی محبت ہے لیکن پنجاب کے حکمرانوں یا پستائی حکمرانوں سے جو غلطیاں ہوئیں تھی وہ تاریخ کا حصہ ہے جس نے ہماری بنیادیں کھوکھلی کردیں،28فیصد پنجاب ببانگ دہل کہاکرتا تھا کہ وسائل برابر ہے وہ ہوچکا لیکن جو ہی بنگلہ دیش الگ ہوا تو اس دن بھی یوٹرن لیا گیا اور کہاگیاکہ وسائل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہوگی لیکن جواب دینے کیلئے آج بھی کوئی تیار نہیں آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم سے چھوٹے صوبوں کے مسائل کیسے حل ہونگے،44فیصد بلوچستان ملک کا وسیع رقبہ ہے،جس کی قسمت میں مظلومیت لکھی گئی ہے،ہمارے اکابرین میرغوث بخش بزنجو سے شروع سردارعطاء اللہ مینگل،خیبربخش مری اور نواب اکبر خان بگٹی،خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی اور باچاخان سب کو حقوق کا نعرہ لگانے پر غدار قراردیاگیا،جی ایم سید جو مسلم لیگ کے پیدوار تھے انہیں بھی غدار قراردیاگیا نیشنل عوامی پارٹی دوسری بڑی پارٹی تھی اور بہانے ڈھونڈ کراس پر پابندی لگا دی گئی اور نفرتیں پیدا کردی گئی،سونا اگلتاہواپنجاب،ہریلایاں سندھ کی،کے پی کی تمام دولت مبارک ہوں لیکن میرے پاس جو چھوٹی دولت ہے وہ میرے بھی بچوں کا ہوناچاہیے۔یہ میں دینے کیلئے تیار نہیں ہوں،ایوان بالا کامقصد کہ سب برابر ہے لیکن ہمیں حق کی بجائے ہم صرف احتجاج پرمجبور ہیں بلوچستان میں چارآپریشنز ہوچکے پانچواں جاری ہے،محبت میں کنٹرول سے اقوام کنٹرول ہوتی ہیں لیکن ہم یہاں محبت کی بجائے نفرت بو رہے ہیں،بلوچستان کے وہ بچے جن کیلئے عید کے دن ان کے ماں باپ جوتے تک خرید نہیں سکتے،اس والدین پر کیا گزرتی ہوگی جس پر غربت گزرتی ہے اس کو غریب کا پتہ ہے،غریب کیلئے قانون بنایاجاتاہے یہ قوانین غریبوں کو تباہ کرنے کیلئے بنایاجاتاہے،یہ ہماری بدبختی ہے بلوچستان،فاٹا،وزیرستان،تھر اور چولستان کی حالت دیکھاجائے یہاں تصرف اسلام آباد،لاہور تک محدود ہے،کوئٹہ گندگی کا ڈھیر بن چکاہے خرابیاں ہماری قسمت میں لکھی جاچکی ہیں یا مرکز کی طرف سے دین ہیں،سونے پر سہاگہ صوبائی حکمران کنٹرولڈ ڈیموکریسی ہے،ادارے بھی ہمارے اور بلوچستان بھی ہمارا ان لوگوں کی کیا غلطی ہے، مقدس ایوان کے لوگ تقاریر کیاکرتے تھے جنہوں نے آئین بنایا وہ لوگ آج آزادی کی بات کیوں کررہے ہیں اس کیلئے کمیشن بنناچاہیے،ایوان سے بے زاری کی بات کیوں کی جارہی ہے، میں ایک اچھے پاکستانی کی حیثیت سے کہتاہوں کہ خدارا اب بھی وقت ہے کنٹرولڈ ڈیموکریسی اور پیسے خرچ کرنے والوں کی ہاتھ میں نمائندگی ہوگی جن کی اکثر بڑوں کو خوش کرنے کی کوشش ہوگی،ڈاکٹرجہانزیب جمالدینی اگر تقریر کرتاہے تو کے بدلے دس کو تقریر کروادیاجائے گا انہیں بھی رکھاگیااور اس کی مخالفت کرنی ہے۔کنٹرولڈ ڈیموکریسی جو بلوچستان سے سفر کرتے ہوئے یہاں پہنچتی ہے اور 70کروڑ سے ایک ارب روپے تک خرچہ ہوجاتاہے کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی،پاکستان کے عظیم تر مفاد میں فیصلوں کی ضرورت ہے،70سالوں سے ہم نے کیا حاصل کیا،مہنگائی،غربت اور بے روزگاری عروج پر ہے،داخلہ اور خارجہ پالیسی نہ ہونے کے برابر ہے،میرے اکابرین یہاں انہی ایوان میں کہاتھا کرتے تھے کہ حقوق سب کے برابر ہے،آپ کی دولت اہل بلوچستان پر حرام ہوں بلوچستان کی گیس پورے پاکستان تک ترسیل ہوگئی لیکن بلوچستان کے لوگ محروم ہیں،قلات سے ایک بار پھر گیس نکلی ہے ہم ایک بار پھر کہتے ہیں کہ اس گیس کا رخ مشرق کی طرف اگر کیاجارہاہے اورسندھ اور پنجاب کے کارخانے چلیں گے تو اہل بلوچستان میں مزید نفرت پیدا ہوگی ہمت اور جرأت کرنا وقت کی ضرورت ہے،تسلیوں اور مظلومیت پر رونے کی بجائے بلوچستان کو سہارا دیکر انہیں ان کا حق عملی طورپر دیاجائے،امید ہے کہ نئے لوگ ان مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھائیں گے لیکن اب تو سسٹم بناہے کہ قابل ترین انٹیلیجنٹ لوگ جاہلوں کے زیر سایہ کام کرینگے اور جاہلوں کے ہاتھ میں پیسہ ہے یہاں فکر،نظریات نام کی کوئی شے نہیں رہی،یہ ریت بن چکی ہے ہمیں اس سے اپنے ملک کو بچانا ہوگا،حکومت وقت کی کمزوریوں کی وجہ سے ڈیفنس کے بجٹ کو خطرہ ہے۔اقتصادی حالت بہت کمزور ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں