یمن،مغوی صحافیوں کو حوثیوں کی جیلوں میں سزائے موت کا سامنا

یمن:یمن میں انسانی حقوق کی ایسوسی ایشن نے جمعے کے روز انکشاف کیا ہے کہ مغوی صحافیوں کو حوثی ملیشیا کی جیلوں میں سزائے موت کے فیصلے پر عمل درامد کا سامنا ہے۔یمنی لاپتہ افراد کی ماؤں کی انجمن نے ایک فوری اطلاع میں تصدیق کی ہے کہ اگر آئینی حکومت کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے میں چار یمنی صحافیوں کو شامل نہیں کیا گیا تو انہیں حوثیوں کی جانب سے موت کے گھاٹ اتارے جانے کا قوی اندیشہ ہے۔ ان صحافیوں کے نام عبدالخالق عمران، توفيق المنصوری، اكرم الوليدی اور حارث حُمی ہیں۔

حوثی ملیشیا 11 اپریل 2020ء کو مذکورہ چاروں صحافیوں کے خلاف موت کی سزا کا فیصلہ جاری کر چکی ہے۔ چاروں صحافیوں کو جون 2015ء میں دارالحکومت صنعاء کے وسطی علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران ان صحافیوں کو کئی جیلوں میں منتقل کیا گیا۔

لا پتہ افراد کی ماؤں کی انجمن نے مطالبہ کیا ہے کہ مغوی صحافیوں کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ ختم کیا جائے اور انہیں بنا کسی شرط کے رہا کیا جائے۔ انجمن نے اقوام متحدہ اور یمن کے لیے اس کے خصوصی ایلچی پر زور دیا کہ وہ ان صحافیوں کی رہائی کے لیے حوثی ملیشیا پر دباؤ ڈالیں۔

واضح رہے کہ یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ایران نواز حوثی ملیشیا نے قیدیوں اور مغوی افراد سے متعلق معاہدے پر عمل درامد کے حوالے سے مشاورتی دور کو ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے زیر انتظام "اپیل کورٹ” کو ہدایت دی کہ 6 سال سے مغوی چاروں صحافیوں کے خلاف عدالتی کارروائی کا انعقاد کیا جائے۔

الاریانی نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، یمن کے لیے اس کے خصوصی ایلچی اور صحافیوں کے تحفظ اور انسانی حقوق کی تمام تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثی ملیشیا پر مطلوبہ دباؤ ڈالیں تا کہ صحافیوں کے خلاف سزائے موت کے احکامات کو روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ عدلیہ کو کریک ڈاؤن، آزادی ضبط کرنے اور سیاسی حساب کے تصفیے کے واسطے استعمال نہ کیا جا سکے۔ یمنی وزیر نے مطالبہ کیا کہ تمام صحافیوں کو بنا کسی شرط یا قیود کے فوری طور پر رہا کیا جائے۔یمن،مغوی صحافیوں کو حوثیوں کی جیلوں میں سزائے موت کا سامنا

اپنا تبصرہ بھیجیں