بلوچستان کربلا کا منظر ہے، میتوں کو غسل دینے کیلئے پانی میسر نہیں، ملک نصیر شاہوانی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی اجلاس سے بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر ایوان کی توجہ اسمبلی کے سامنے احتجاج کرنے والے زمینداروں کی جانب مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ سینکڑوں کی تعداد میں زمیندار بلوچستان اسمبلی کے سامنے سراپا احتجاج ہیں گزشتہ دو روز سے صوبے میں صرف ایک گھنٹہ بجلی فراہم کی جارہی ہے سابق رکن او ر موجودہ سینیٹر دنیش کمار نے اسمبلی فلور پر یقین دہانی کروائی تھی کہ حکومت کیسکو کو دو تین دن میں واجبات کی مد میں پانچ ارب روپے ادا کریگی صوبائی وزیر خزانہ نے بھی اس حوالے سے یقین دہانی کروائی تھی اس کے باوجود کیسکو کو واجبات ادا نہیں کئے گئے جس کیسکو نے زرعی ٹیوبلوں کو بجلی کی فراہمی تین گھنٹے سے کم کرکے ایک گھنٹہ کردی ہے انہوں نے کہا کہ بجلی صرف زمیندار ہی نہیں بلکہ عام لوگ بھی استعمال کرتے ہیں انہی ٹیوبلوں سے لوگ پانی استعمال کرتے ہیں اب صورتحال یہ ہے کہ بلوچستان میں کربلا کا منظر ہے میتوں کو غسل دینے کے لئے بھی پانی میسر نہیں ہے زمیندار وں کی جب بھی فصلیں تیار ہوتی ہیں تو بجلی بند کردی جاتی ہے مزید پانچ دن اگر بجلی بند رہی تو زمینداروں کی فصلیں تباہ ہوجائیں گی جسکی وجہ سے وہ آج سراپا احتجا ج ہیں انہوں نے کہا کہ بحیثت چیئر مین زمیندار ایکشن کمیٹی ایوان میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر آج شام تک بجلی بحال نہ کی گئی تو یکم اپریل کو صوبے کی تمام شاہراہوں پر پہیہ جام ہڑتال ہوگی انہوں نے کہا کہ کیسکو واجبات کے حصول کے لئے زمینداروں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہی ہے ایوان کی کاروائی اس وقت تک نہیں چلنے دیں گے جب وزیرخزانہ تسلی بخش جواب نہیں دیتے اس وقت صوبے میں اس سے بڑا کوئی مسئلہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے تمام چوراہوں پر لوگ احتجاج پر بیٹھے ہیں سڑکیں بند ہیں حالت یہ ہے جب تک کوئی شخص اسمبلی کے سامنے پہنچ کر خود سوزی کی کوشش نہیں کرتا یا بجلی کے کھمبے پر نہیں چڑھتا اس وقت تک اسکی بات سنی نہیں جاتی انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے سامنے بیٹھے زمینداروں کو گرفتار کرنے یا ان پر لاٹھی چارج کرنے کی کوشش کی گئی تو کل ہی سے پہیہ جام ہڑتال کی کام دینے کے ساتھ ساتھ بحیثیت رکن اسمبلی اور زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئر مین مجھی بھی گرفتار سمجھا جائے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کرسکتے حالانکہ گزشتہ بجٹ میں حکومت نے 30سے 35ارب لیپس کئے اور اس بار بھی اربوں روپے لیپس ہونے جارہے ہیں اگر زمیندارو ن کو نقصان ہوا تو اسکی ذمہ دار حکومت ہوگی اور ہم عدالت سے بھی رجوع کرنے سے گریز نہیں کریں گے


