اسٹیٹ بینک آرڈننس

اسٹیٹ بینک آرڈننس پر اپو زیشن نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے کو خود مختاری دینے کے نام پر اسے آئی ایم ایف کا غلام بنا دیا گیاہے۔ ماہرین معیشت نے بھی ملکی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان بل2021کے ذریعے گورنر اسٹیٹ بینک کو فنانشل وائسرائے بنایا جا جارہا ہے۔اسٹیٹ بینک ملکی آئین اور قانون سے بالا تر ہوگا۔ریاست کے کسی ادارے کو جوابدہ نہیں ہوگا۔اس بل کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ سمیت کوئی ادارہ گورنر اسٹیٹ بینک، ان کے ڈپٹی گورنر حتیٰ کہ اسٹاف کے کسی فرد کو نہیں بلا سکے گا۔دیہی ترقیاتی قرضے، صنعتی قرضے، اور گھروں کی تعمیرکے لئے قرض دینا بند کر دے گا۔جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ خود مختاری ملنے کے بعد اسٹیٹ بینک مہنگائی کو کنٹرول کرے گا،ملک میں مالی استحکام لائے گا اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کو نتیجہ خیز بنانے میں اس کی مدد کرے گا۔ پی پی پی نے اس بل کو عدالت میں چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔نون لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی شدید مخالفت کی ہے۔ جماعت اسلامی بل کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا ارادہ رکھتی ہے اور آئندہ چند روز میں سیاست سے بالاتر ہوکر قومی مشاورتی اجلاس بلائے گی جس میں حکومتی پارٹی کو بھی مدعو کیا جائے گا۔تاکہ اس بل کے تمام پہلو حکومت تک پہنچائے جائیں۔ ماہر معاشیات قیصر بنگالی نے اس ضمن میں ترکی کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ سلطنت عثمانیہ نے جب قومی بینک کے مقابلے میں خود کو بے اختیارکرلیا تو اس کے نتیجے میں سلطنت ٹوٹ گئی کیونکہ اس کے پاس دفاعی اور حکومتی اخراجات کی ادائیگی کے لئے رقم نہیں تھی۔سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ اے پاشا نے کہا ہے کہ بھارت میں اسٹیٹ بینک کے بورڈ میں حکومتی نمائندگی ہوتی ہے مگر مجوزہ بل میں اسٹیٹ بینک کے بورڈ سے حکومتی نمائندے کو ہٹا دیا ہے۔ماہرین معیشت یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اسٹیٹ بینک حکومت کو قرضوں کی ادائیگی روک دے تو دفاعی اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے؟ عام آدمی یہ بحث و مباحثہ ٹی وی چینلز پر دیکھتااور سنتا ہے تو اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک طرف اپوزیشن (اور جماعت اسلامی بھی) پی ٹی آئی کو عوام کی منتخب حکومت کی بجائے سلیکٹڈ کہتی ہے اور دوسری جانب مجوزہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان بل 2021تنقید کرتے ہوئے یہ الزام بھی عائد کرتی ہے، یہ حکومت اتنی بے اختیار ہو جائے گی کہ اپنے روز مرہ اخراجات کو ترسے گی بلکہ گورنر اسٹیٹ بینک اتنا طاقتور ہوجائے گا کہ دفاعی اخراجات بھی روک سکتا ہے، سلطنت عثمانیہ کی طرح ریاست ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہو جائے گا۔عام آدمی سمجھتا ہے جب اپوزیشن حکومت پر یہ الزام عائد کرتی ہے کہ وہ دفاعی اخراجارت روکنے کا بل لارہی ہے تو وہ خودتضاد بیانی کاشکار ہے۔اب تو وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری بھی میڈیا کو سمجھانے لگے ہیں کہ وہ فوج کے بہت قریب ہیں،اور یہ قربت بہت پرانی ہے۔پہلے اس قسم کا دعویٰ صرف شیخ رشید کیا کرتے تھے، لیکن وہ اس کی وجہ یہ بتاتے رہے ہیں کہ ان کے حلقے میں جی ایچ کیو واقع ہے وہ انہی کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔ جس کابینہ میں ایک سے زائد وزراء برملا اعتراف کریں کہ انہیں فوج کی قربت حاصل ہے، اس حکومت کے بارے میں عوام کو یہ بتانا کہ یہ ایسا بل لا رہی ہے اور منظور کرنے جا رہی ہے جس کے بعد گورنر اسٹیٹ بینک ملک کے دفاعی اخراجات کے لئے رقم کی فراہمی بھی روک دے گا،ایک ایسی پہیلی ہے جسے ماہرین معیشت خود ہی سمجھا سکیں تو سمجھا دیں۔یا اپوزیشن اس گتھی کو سلجھائے، عام آدمی اسے سمجھنے سے قاصر ہے۔ویسے موجودہ حکومت ہر دوسرے روز اگر کوئی نئی غلطی نہ کرے تو اسے بھی چین نہیں آتا۔ایک دن اقتصادی رابطہ کمیٹی بھارت سے چینی، کپاس اور دھاگہ درآمد کرنے کی منظوری دیتی ہے کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں سستی ملے گی،زرمبادلہ بچے گا، تجارتی خسارے میں کمی آئے گی۔ اور اگلے روز کابینہ یہ کہہ کر اس فیصلے کو مسترد کر دیتی ہے کہ جب تک بھارت 20ماہ پہلے کئے گئے اقدامات واپس نہیں لیتا دونوں ملکوں کے درمیان تجارت نہیں ہوگی۔ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن اتنی جلدی کمیٹی کے فیصلے کو مسترد ہوتے دیکھتی ہے، اور نظر ثانی کی اپیل کرتی ہوئی چینل سے واپس چلی جاتی ہے۔اس سے پہلے بھی حکومت کو اپنے جاری کردہ صدارتی آرڈننسز پر ایک سے زائد بار خفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک آرڈننس میں پیشگی یہ جملہ بھی شامل کیا گیا کہ اس کا نفاذ عدالتی فیصلے سے مشروط ہے۔ اس قدر محتاط مگر آرڈننس کی رسیا حکومت کچھ بھی کر سکتی ہے، اور اس کا مظاہرہ د ن رات، تسلسل اور تواتر سے سب کے سامنے کر رہی ہے۔سیاسی زبان میں ڈھائی سال پورے کرچکی ہے، تیسرا سال پورا کرنے میں چار ساڑھے چار ماہ باقی ہیں۔اس کے پاس اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے سال ڈیڑھ سال کی مہلت رہ گئی ہے۔ پانچویں سال اگر کسی کے جنازے میں شرکت کی جائے تو ووٹر کہتے ہیں:”ہاں،بھائی الیکشن قریب آیا تو انہیں بھی ہمارے جنازے یاد آ گئے ہیں“۔ترقیاتی کام بھی اسی کھاتے میں ڈالے جاتے ہیں۔عام آدمی مہنگائی کے عذاب کا شکار ہے۔مہنگائی برقرار رہی اور اس میں کمی نہ آئی تو ووٹر اپنا۔۔”قیمتی“۔۔ ووٹ دیتے وقت دیر تک سوچے گا۔اور مبصرین کے نزدیک موجودہ حکومت کے دور میں مہنگائی کا کم ہونا کسی معجزے کے برابرہے،جبکہ سیانے کہتے ہیں کہ معجزات کے رونما ہونے کا دور مدتوں پہلے ختم ہو چکا ہے۔اب ’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘ کاقانون چلتا ہے۔پی ٹی آئی کی قیادت خود تسلیم کرتی ہے کہ مہنگائی پر قابو نہ پایا تو آئندہ الیکشن میں جیتنا مشکل ہو جائے گا۔سابق وزیر خزانہ شوکت ترین سے مذاکرات کا پس منظر بھی بے قابو مہنگائی ہے۔اس سب کے باوجود اسٹیٹ بینک آف پاکستان بل2021ایک نازک معاملہ ہے۔آئی ایم ا یف کے دباؤ میں آکر ایسی غلطی نہ کی جائے جس کی بعد میں بھاری قیمت چکانی پڑے۔حکومت اسے انا کا مسئلہ نہ بنائے،جو اصلاح درکار ہے پارلیمنٹ خودکرے، ہر بار عدالت جانا پارلیمنٹ کے وقار کے منافی ہے۔ عدالت ایک سے زائد بار فیصلہ دے چکی ہے کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہے، اس مقصد کے لئے عدالت میں نہ آئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں