پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم کا حصہ رہنے یا نہ رہنے کا معاملہ سی ای سی پر چھوڑ دیا

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا حصہ رہنے یا نہ رہنے کا معاملہ سی ای سی پر چھوڑ دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے شوکاز نوٹس کا جواب دینے سے متعلق سی ای سی فیصلہ کرے گی، پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم کا حصہ رہنے یا نہ رہنے کا معاملہ سی ای سی کے سپرد کردیا ہے، پی ڈی ایم کا کوئی آئین نہیں اور پیپلزپارٹی کسی کو جوابدہ نہیں ہے، تاہم جمہوریت میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں، اگر مسلم لیگ ن کو کوئی مسئلہ تھا تو بات کرنی چاہیئے، جب کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی بھی مسلم لیگ ن کو اکثریت پر ملی۔یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سے پہلے عوامی نیشنل پارٹی نے بھی پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے، اے این پی رہنما امیر حیدرہوتی نے کہا کہ پی ڈی ایم کے منشور کی حمایت جاری رکھیں گے، ن لیگ پنجاب اور جییوآئی لاڑکانہ میں پی ٹی آئی کا ساتھ دینے پر وضاحت دیں، شوکاز نوٹس کا مقصد اے این پی کو سیاسی نقصان پہنچانا ہے۔انہوں نے پارٹی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کو شوکاز نوٹس دینے کا اختیار صرف اسفند یار ولی خان کو ہے، وضاحت چاہیے تھی تو ویسے ہم سے وضاحت مانگ لیتے ہم وضاحت دے دیتے، کیا پنجاب میں مسلم لیگ ن کی جانب سے پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کی وضاحت نہیں بنتی؟ لاڑکانہ میں جے یوآئی اور پی ٹی آئی کا اتحاد ہوا ہے، کیا اس پر وضاحت نہیں بنتی؟ ہمیں مولانا صاحب سے توقع تھی کہ وہ سربراہ پی ڈی ایم کی حیثیت سے قدم اٹھائیں گے۔امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک کی وجہ سے حکومت پر دبا آیا، استعفوں کے وقت سے متعلق اختلاف رائے کی وجہ سے لانگ مارچ کو مؤخر کرنا پڑا، اے این پی کا مؤقف تھا کہ استعفوں کے بغیر لانگ مارچ میں دم نہیں ہوگا، میری تجویز تھی کہ جب تک استعفوں کی ٹائمنگ پر متفق نہیں ہوتے لانگ مارچ ملتوی کردیا جائے جب کہ پیپلزپارٹی کو (ن) لیگ کے امیدوار پر تحفظات تھے، ہونا یہ چاہیے تھا کہ تحفظات مشاورت سے دور کیے جاتے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، سینیٹ میں اپوزیشن کے دو امیدواروں میں سے ہمیں ایک کا انتخاب کرنا تھا،ہم نے رات کے اندھیرے میں ٹھپے نہیں لگائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں