یونان میں معروف سینئر صحافی قتل
یونان :یونان کے سیاسی و سماجی حلقوں نے اس قتل کی سخت مذمت کی ہے۔ پولیس دو حملہ آوروں کو تلاش کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دو حملہ آوروں نے اسٹار ٹی وی کے معتبر اور سینئر کرائم رپورٹر جیورجس کارائیواز کو ان کے گھر کے باہر اندھا دھند گولیاں مار کر ہلاک کیا۔
پولیس کے مطابق صحافی کو جنوبی الیموز ضلع میں ان کے گھر کے باہر دوپہر دو بجے کے بعد حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ایک عینی شاہد نے مقامی ٹیلی ویزن کو بتایا ”میں وہیں رہتا ہوں اور اپنی کار پارک کررہا تھا۔ میں نے سوچا کوئی شخص بے ہوش ہوکر گر پڑا ہے۔ وہ منہ کے بل گرا ہوا تھااور اس کے ایک طرف خون بہہ رہا تھا۔”
پولیس کو جائے واردات سے گولیوں کے سترہ خالی خول برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس نے کہا ہے کہ وہ حملہ آوروں کو تلاش کررہی ہے۔مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق کارائیواز کو بظاہر کوئی دھمکیاں نہیں ملی تھیں اور انہیں اس بات کا قطعی اندازہ نہیں تھا کہ وہ کسی کی ”قتل کیے جانے والوں کی فہرست” میں شامل ہوسکتے ہیں۔
سولہ ڈیجیٹل میڈیا اسٹارٹ اپ گروپس ’میڈیا وائی بلیٹی‘ کے لیے کوشاں ہیں۔ میڈیا اداروں کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے اور ’کوالٹی جرنلزم‘ کے لیے انہیں کس طرح کے چیلنجز درپیش ہیں؟ آئیے جانتے ہیں، انہیں کی زبانی۔اس واقعے سے ملک بھر میں صدمے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حکومت نے جیورجس کارائیواز کے قتل کی سخت مذمت کی ہے۔سرکاری ترجمان اریسٹوٹیلیا پیلونی نے ایک بیان میں کہا ”اس قتل نے ہم سب کو ہلا کررکھ دیا ہے۔”
یونان میں صحافیوں کی تنظیم ای ایس آئی ای اے کی صدر ماریا انٹونیاڈو نے کہا”اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ اس طرح وہ صحافیوں کو خاموش کردیں گے تواب بھی 6099دوسرے (صحافی) موجود ہیں جو اس کی تفتیش کریں گے اور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ کیسے ہوا۔”یورپی کمشنر برائے انسانی حقوق کونسل کے رہنما ڈونچا میجاتووک نے یونانی حکام سے ”اس جرم کی مکمل تفتیش اور قصورواروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔
کارائیواز جس جگہ گولی لگنے سے گرے تھے وہاں لوگ بطورعقیدت پھولوں کے گلدستے پیش کررہے ہیں۔ کئی عشروں پر محیط اپنے صحافتی کیریئر میں انہوں نے متعدد یونانی اخبارات اور نشریاتی اداروں کے لیے خدمات سر انجام دیں۔یونان میں گزشتہ برس جولائی میں ایک جریدے کے مالک اسٹیفانوس چیوس کو ان کے گھر کے باہر گولی مار دی گئی تھی۔ انہیں گردن او ر سینے میں گولیاں لگی تھیں۔ یہ کیس اب بھی زیر تفتیش ہے۔
یونان کے میڈیا اداروں کے دفاتر اکثر حملوں کا نشانہ بنتے رہتے ہیں تاہم صحافیوں کے قتل کے واقعات شاذ ونادر ہی پیش آتے ہیں۔گیارہ برس قبل نقاب پوش حملہ آوروں نے تحقیقاتی صحافی سقراطس گیولیاس کو ان کی حاملہ بیوی کے سامنے گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔


